تین سال میں 1 لاکھ 95 ہزار کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز بلاک، وزارت داخلہ نے سینیٹ میں ریکارڈ پیش کر دیا

news-banner

تازہ ترین - 03 فروری 2026

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے سینیٹ میں ریکارڈ پیش کیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 95 ہزار کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔

 

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بلاک شناختی کارڈز سندھ اور خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کیے گئے۔

 

 خیبر پختونخوا میں 72,703، سندھ میں 49,666، پنجاب میں 29,852 اور بلوچستان میں 34,990 شناختی کارڈز پر کارروائی عمل میں آئی۔

 

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 5,731، آزاد کشمیر میں 1,410 اور گلگت بلتستان میں 758 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔

 

وزارت داخلہ کے مطابق 1 لاکھ 30 ہزار 885 شناختی کارڈز سیکشن 18 کے تحت بلاک کیے گئے، جبکہ 64 ہزار 225 کارڈز عدالتی احکامات کی بنیاد پر بلاک کیے گئے۔

 

 گزشتہ تین برسوں کے دوران 46 ہزار سے زائد بلاک شدہ شناختی کارڈز بحال بھی کیے جا چکے ہیں۔

 

حکام نے بتایا کہ اس وقت بھی 1 لاکھ 48 ہزار سے زائد شناختی کارڈز بلاک ہیں اور ان کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

 نادرا کے مطابق یہ کارڈز غلط معلومات فراہم کرنے یا مقدمات کی عدم پیروی کے باعث بلاک کیے گئے۔