کرک میں دہشت گردوں کی سفاکیت، زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس نذرِ آتش، اہلکار شہید

news-banner

پاکستان - 24 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں دہشت گردوں کی جانب سے انسانیت سوز حملے میں زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں زیر علاج اہلکار شہید ہوگئے۔

 

رپورٹس کے مطابق 23 فروری 2026 کو قلعہ شہیدان کے علاقے میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد زخمی اہلکاروں کو منتقل کرنے کیلئے ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینسز موقع پر پہنچیں۔

 

واپسی کے دوران دہشت گردوں نے ایمبولینسز پر حملہ کر دیا، جس میں ایک ایمبولینس کو آگ لگا دی گئی جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیاب رہی۔ آگ لگنے سے ایمبولینس ڈرائیور اور ریسکیو اہلکار بھی جھلس گئے۔

 

آگ میں جل کر شہید ہونے والوں میں سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں، جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تھا۔ دیگر زخمی اہلکاروں کو علاج کیلئے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

 

حکام کے مطابق واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی پھیلائی گئیں، جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا بتایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن مزید تیز کر دیا ہے۔