لاہور: دل کے امراض کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ، پی آئی سی ایمرجنسی پر دباؤ

news-banner

تازہ ترین - 26 فروری 2026

لاہور: صوبائی دارالحکومت میں دل کے امراض کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی میں غیر معمولی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ایمرجنسی میں 2 لاکھ 82 ہزار 962 مریضوں نے رجوع کیا جبکہ اس دوران 20 ہزار 530 پروسیجرز مکمل کیے گئے۔ اسی عرصے میں 4 ہزار 719 پرائمری پی سی آئیز بھی انجام دی گئیں۔

 

اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سب سے زیادہ 40 ہزار 936 مریضوں نے ایمرجنسی کا رخ کیا، جن میں 2 ہزار 726 پروسیجرز اور 627 پرائمری پی سی آئیز کی گئیں۔ 

 

جنوری 2026 میں 36 ہزار 879 مریض رپورٹ ہوئے، جن میں 3 ہزار 180 پروسیجرز اور 740 پرائمری پی سی آئیز انجام دی گئیں۔

 

ذرائع کے مطابق معمولی ہارٹ اٹیک کے مریض ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض مریضوں کو او پی ڈی میں طویل علاج کے لیے ریفر کیا جا رہا ہے۔ 

 

ایمرجنسی میں فوری پرائمری پی سی آئی نہ ہونے کی وجہ سے سنجیدہ مریض بار بار ایمرجنسی آنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

 

پی آئی سی کے ایم ایس اور ترجمان ڈاکٹر عامر بٹ کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی میں آنے والے تمام مریضوں کو دستیاب سہولت کے مطابق فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، اور مریضوں کے بڑھتے دباؤ کے باوجود پروسیجرز اور انجیو پلاسٹی کا عمل جاری ہے۔