کاروبار - 05 مارچ 2026
بوبا ڈرنکس کے صحت پر اثرات: نئی تحقیق میں خطرناک انکشافات
تازہ ترین - 05 مارچ 2026
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مقبول مشروب بوبا ٹی یا بوبا ڈرنک کا زیادہ استعمال صحت کے متعدد مسائل کا سبب بن سکتا ہے، جن میں گردے کی پتھری، فیٹی لیور، ہاضمے کے مسائل اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق یہ مشروب پہلی بار 1980ء کی دہائی میں تائیوان میں متعارف کروایا گیا اور آج دنیا بھر میں خاص طور پر نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے۔
بوبا ٹی میں شامل ٹاپیوکا پرلز (ساگو دانہ) دراصل کاساوا پودے کے نشاستے سے بنتے ہیں، جن میں غذائیت کم اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔
ایک کپ خشک ساگو دانے میں تقریباً 544 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔
ممکنہ خطرات:
- کاساوا پودا مٹی سے بھاری دھاتیں جیسے سیسہ اور کیڈمیم جذب کر سکتا ہے، اور کچھ رپورٹس میں بوبا ٹی کے نمونوں میں سیسے کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے۔
- زیادہ مقدار میں ٹاپیوکا پرلز کھانے سے ہاضمہ سست، معدے میں درد، متلی اور بعض نادر صورتوں میں آنتوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
- گاڑھا کرنے والے اجزاء قبض بڑھا سکتے ہیں۔
- چھوٹے بچوں کے لیے بڑے پرلز گلے میں پھنسنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
شوگر اور موٹاپا:
ایک عام کپ بوبا ٹی میں 20 سے 50 گرام چینی ہو سکتی ہے، جو بعض اوقات کولڈ ڈرنکس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
زیادہ چینی کے استعمال سے دانتوں کی خرابی، موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور فیٹی لیور جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
گردے اور ذہنی صحت:
ببل ٹی میں موجود اجزاء جیسے آکسیلیٹ اور فاسفیٹ گردے کی پتھری کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔
تائیوان میں 2023ء میں ایک کیس میں 20 سالہ خاتون کے جسم سے 300 سے زائد گردے کی پتھریاں نکالی گئی تھیں، جسے بوبا ٹی کے زیادہ استعمال سے جوڑا گیا۔
چین میں کی گئی تحقیقات کے مطابق زیادہ بوبا پینے والے افراد میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور تھکن زیادہ دیکھی گئی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بوبا ٹی کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن روزانہ کے بجائے کبھی کبھار پینا بہتر ہے۔
کم چینی کا انتخاب، چھوٹا سائز لینا اور اضافی گاڑھے اجزاء سے پرہیز صحت کے خطرات کم کر سکتا ہے۔
دیکھیں

