پاکستان باضابطہ رابطہ کرے تو سستا تیل فراہم کر سکتے ہیں: روسی سفیر

news-banner

کاروبار - 17 مارچ 2026

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان باضابطہ طور پر رابطہ کرے تو روس اسے سستا تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران روسی سفیر نے کہا کہ روس پاکستان کو تیل فروخت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ ان کے علم کے مطابق پاکستان نے ابھی تک تیل کی خریداری کے لیے روس سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا، تاہم جیسے ہی ایسا کیا جائے گا، روس رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کرے گا۔

 

روسی سفیر کے مطابق توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

 

البرٹ پی خوریف نے کہا کہ ایران کے ساتھ روس کے کئی دہائیوں پر محیط فوجی اور تکنیکی تعلقات موجود ہیں، جبکہ حالیہ ردعمل ان امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جو خلیجی آبی راستوں میں موجود ہیں۔

 

انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالات غیر یقینی ہیں، اس لیے حتمی رائے دینا مشکل ہے۔

 

روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا حیران ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی کیونکہ صورتحال کافی پیچیدہ ہو چکی ہے۔

 

انہوں نے ایران میں بچیوں کے اسکول پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں 170 بچوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

 

 

البرٹ پی خوریف نے زور دیا کہ تمام فریقین طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور مسائل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال نے خطے میں بحران کو مزید شدت دی ہے اور اس سے اسلامی دنیا میں اختلافات بڑھنے کا خدشہ ہے۔