شور اور تیز آوازیں پارکنسن کی علامات کو بڑھا سکتی ہی

news-banner

تازہ ترین - 27 مارچ 2026

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ شور اور بلند آوازیں اعصابی بیماریوں سے منسلک ہو سکتی ہیں، خاص طور پر میں مبتلا افراد کے لیے۔

 

چین میں کی گئی تحقیق میں ابتدائی مرحلے کی پارکنسن بیماری والے چوہوں کو 85 سے 100 ڈیسی بیل کی آوازوں کے سامنے رکھا گیا، جو لان موور یا بلینڈر کے برابر تھیں۔

 

ایک گھنٹے کے بعد چوہوں کی حرکت سست ہو گئی اور توازن متاثر ہوا۔ 

 

جن چوہوں کو روزانہ ایک ہفتے تک یہ آوازیں سنائی گئیں، ان میں مستقل حرکت کے مسائل پیدا ہوئے۔

 

تحقیق کے مطابق دماغ کا انفیرئیر کولی کیولس نامی حصہ، جو آواز کو پراسیس کرتا ہے، سبسٹینشیا نیگرا پارس کمپیکٹا سے جڑا ہے اور ڈوپامین پیدا کرنے والے خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق ماحولیاتی عوامل، جیسے فضائی آلودگی اور الٹرا پراسیسڈ غذائیں، پارکنسن کی ابتدائی علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔ 

 

پارکنسنز فاؤنڈیشن کے مطابق 2030 تک امریکہ میں 12 لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، اور ہر سال تقریباً 90 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

 

پارکنسن کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، لیکن ادویات اور دیگر طریقے ڈوپامین کی کمی کو پورا کر کے علامات کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ 

 

مصنوعی ذہانت کی مدد سے جلد تشخیص کے طریقے بھی تحقیق کے مراحل میں ہیں۔