نئی تحقیق میں شوگر کی دوا میٹفارمن کے دماغ پر ممکنہ منفی اثرات کا انکشاف

news-banner

تازہ ترین - 28 مارچ 2026

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کی عام دوا میٹفارمن صرف خون میں شوگر کم نہیں کرتی بلکہ براہِ راست دماغ پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ 

 

ماہرین نے اس کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 

تحقیق کے اہم نکات

 

سائنس ایڈوانسز میں شائع تحقیق کے مطابق، میٹفارمن دماغ کے ہائپوتھیلمس حصے کو متاثر کرتی ہے جو توانائی اور شوگر کے توازن کو کنٹرول کرتا ہے۔ 

 

دوا RAP1 پروٹین کو دباتی ہے، مخصوص نیورونز (SF1 نیورونز) کو متحرک کرتی ہے، اور دماغ میں معمولی مقدار بھی خون میں شوگر نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق یہ دریافت حیران کن ہے کیونکہ زیادہ تر ذیابیطس کی ادویات جگر یا لبلبے پر اثر کرتی ہیں، دماغ پر نہیں۔

 

ممکنہ خدشات

 

جانوروں پر تحقیق میں ذیلی نتائج ظاہر ہوئے ہیں:

 

  1. یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت پر اثرات – یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
  2.  
  3. دماغی توانائی کی پیداوار میں تبدیلی – ATP کی سطح میں کمی دماغی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے۔
  4.  
  5. انسانوں میں متضاد نتائج – کچھ مطالعات میں ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوا، جبکہ بعض میں خاص طور پر عمر رسیدہ افراد میں ذہنی کارکردگی کی کمی دیکھی گئی۔ 
  6.  
  7. اثرات عمر، خوراک، صحت اور استعمال کے دورانیے پر منحصر ہو سکتے ہیں۔
  8.  

میٹفارمن کے پہلے سے معلوم مضر اثرات

 

عام سائیڈ ایفیکٹس: متلی، اسہال، پیٹ میں تکلیف، بھوک میں کمی


سنگین مگر کم پائے جانے والے خطرات: لیکٹک ایسیڈوسس


وٹامن B12 کی کمی: طویل استعمال سے خون کی کمی اور اعصابی مسائل

 

ماہرین کی ہدایات

 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض گھبرائیں نہیں کیونکہ میٹفارمن اب بھی محفوظ اور مؤثر دوا ہے، تاہم:

 

  • دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
  •  
  • گردوں کے ٹیسٹ باقاعدگی سے کروائیں۔
  •  
  • وٹامن B12 کی سطح چیک کروائیں۔
  •  
  • تھکن، الجھن یا یادداشت کے مسائل ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
  •  

ماہرین نے واضح کیا کہ میٹفارمن کے اثرات پورے جسم، خصوصاً دماغ تک پھیل سکتے ہیں۔ 

 

اگرچہ فوائد زیادہ ہیں، لیکن طویل مدتی دماغی اثرات پر مزید تحقیق ضروری ہے، اور دوا کو خود سے بند نہ کریں۔