ایوان صدر میں اہم اجلاس، صوبوں کی مخالفت پر اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

news-banner

پاکستان - 31 مارچ 2026

اسلام آباد: پیر کو ایوان صدر میں ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں صوبوں کی مخالفت کے باعث ملک گیر اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

 

اجلاس کی صدارت صدر آصف علی زرداری نے کی، جس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر حکام شریک ہوئے۔

 

اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے معاشی، توانائی اور سکیورٹی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

 

 صدر نے عوام خصوصاً کمزور طبقوں کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔

 

 

 تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز مسترد کی گئیں اور کفایت شعاری کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی ہدایت کی گئی۔

 

ہفتہ و اتوار کے دن ملک گیر اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور کیا گیا تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے، تاہم پیداوار اور برآمدات پر ممکنہ منفی اثرات کے باعث صوبوں نے اس کی مخالفت کی، اور اس منصوبے کو نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

 اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں ایندھن کی کھپت 25 فیصد بڑھ گئی، جس پر عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مہم چلانے کی ہدایت دی گئی تاکہ شہری اپنی طرز زندگی میں تبدیلی لائیں۔

 

صدر نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور مشترکہ موبلٹی کے استعمال کی ترغیب بھی دی تاکہ توانائی کی کھپت کم ہو۔

 

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو پاکستان کی ترکی، سعودی عرب اور مصر سمیت دیگر ممالک کے ساتھ فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

 

علاوہ ازیں، صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں ملکی سلامتی اور خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

 

 اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی موجود تھے۔

 

اجلاس میں ملکی چیلنجز کو حل کرنے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔