مریخ پر اربوں سال پرانا قدیم دریا دریافت، ناسا کی بڑی کامیابی

news-banner

تازہ ترین - 31 مارچ 2026

امریکی خلائی ادارے ناسا کی تازہ تحقیق میں مریخ کے شمالی حصے میں واقع جیزیرو کریٹر میں اربوں سال پرانے قدیم دریا کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔

 

 یہ دریافت پرسویئرنس روور کے ذریعے ممکن ہوئی، جس نے مریخ کی تہہ دار ساخت اور مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

 

تحقیق میں ایسے شواہد ملے جو ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی میں یہاں ایک وسیع جھیل اور بہتا ہوا دریا موجود تھا۔ 

 

سائنسدانوں کے مطابق یہ ڈیلٹا تقریباً چار ارب سال پرانا ہے اور مریخ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے۔

 

ماہرین نے کہا کہ پانی زندگی کے لیے بنیادی جزو ہے، اس لیے جہاں پانی کے آثار ملیں، وہاں ماضی میں زندگی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ 

 

مریخ کا قدیم ماحول آج کے مقابلے میں زیادہ گرم اور گھنا تھا، جو مائع پانی کے بہاؤ کے لیے موزوں تھا۔

 

یہ دریافت اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ جیزیرو کریٹر میں ماضی کی زندگی کے آثار محفوظ ہو سکتے ہیں۔ 

 

یاد رہے کہ پہلے بھی پرسیورنس روور نے ایک چٹان میں ممکنہ حیاتیاتی نشانات کی نشاندہی کی تھی، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔

 

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کی تاریخ ایک پیچیدہ پہیلی کی مانند ہے، اور ہر نئی تحقیق اس کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دے رہی ہے۔