ایران جنگ سے امریکہ کو روزانہ دو ارب ڈالر کا نقصان، ماہرین

news-banner

دنیا - 01 اپریل 2026

واشنگٹن: عالمی ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے باعث امریکہ کو روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔

 

براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر اسٹیفنی سیویل کے مطابق ہتھیاروں، فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر مدات میں امریکی معیشت کو پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں عوامی قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام امریکی شہری پر پڑے گا۔

 

امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

ہارورڈ یونیورسٹی کی دفاعی بجٹ کی ماہر لنڈا بلائمز کا کہنا ہے کہ اس جنگ پر روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔

 

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی، کاروباری غیر یقینی صورتحال اور انشورنس اخراجات میں اضافے جیسے طویل مدتی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔

 

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کے مطالبے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جسے ماہرین ایک انتہائی بڑی رقم قرار دے رہے ہیں۔