سکردو میں پرتشدد واقعات، غفلت برتنے پر پولیس کے 18 افسران برطرف

news-banner

پاکستان - 03 اپریل 2026

گلگت بلتستان پولیس نے اسکردو میں 1 مارچ کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران فرائض میں مبینہ غفلت برتنے پر 18 پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔ 

 

پولیس ترجمان کے مطابق برطرف کیے جانے والوں میں ایک انسپکٹر، 2 سب انسپکٹرز، ہیڈ کانسٹیبلز اور کانسٹیبلز شامل ہیں۔ یہ کارروائی محکمانہ انکوائری کے بعد عمل میں لائی گئی، جبکہ ریجنل پولیس آفیسر بلتستان نے باضابطہ احکامات جاری کیے۔

 

 گلگت اور اسکردو میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی تھی جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں مبینہ شہادت کی افواہیں سامنے آئیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 2 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ 

 

پرتشدد مظاہروں کے دوران متعدد سرکاری و نجی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا، جن میں سیکیورٹی دفاتر، ایک اسکول، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام   کی عمارت اور درجنوں گاڑیاں، آئی ٹی پارک، ایس پی آفس اور پولیس افسران کی رہائش گاہیں شامل تھیں۔ ا

س کے علاوہ اسکردو میں اقوام متحدہ کے دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی، جس کے بعد حالات قابو میں رکھنے کے لیے کئی روز تک کرفیو نافذ کیا گیاتھا۔ 

 

 

دوسری جانب ان واقعات کی تحقیقات کے لیے گلگت بلتستان حکومت نے 17 مارچ کو ایک 3 رکنی عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی جسٹس ملک عنایت الرحمٰن کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس جوہر علی خان اور جسٹس جہانزیب خان اس کے رکن ہیں۔