تازہ ترین - 05 اپریل 2026
آرٹیمس دوم مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا حیرت انگیز منظر دیکھ لیا
تازہ ترین - 05 اپریل 2026
امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس دوم مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اُس حصے کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا، اور اسے ایک منفرد اور حیرت انگیز تجربہ قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خلا بازوں نے اورائن کیپسول سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چاند کا یہ رخ ان کے لیے بالکل نیا تھا۔
خلا باز کرسٹینا کوچ کے مطابق چاند کے سیاہ حصے اپنی معمول کی جگہ پر نہیں لگ رہے تھے اور یہ منظر زمین سے دکھائی دینے والے چاند سے مختلف محسوس ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ حصہ ہے جسے انسانوں نے براہِ راست کبھی نہیں دیکھا۔
چار رکنی عملے میں ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا کے خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔
تقریباً پچاس سال بعد انسانوں کا یہ پہلا مشن ہے جو چاند کے گرد بھیجا گیا ہے۔
یہ مشن دس دن پر مشتمل ہے اور خلا باز آدھے سے زیادہ سفر مکمل کر چکے ہیں۔
خلا بازوں کے مطابق خلا میں زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ ہے، جس نے انہیں حیرت اور عاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ خلا میں بھی روزمرہ کے معمولات جیسے آرام کرنا اور دیگر کام جاری رہتے ہیں، جو اس سفر کو مزید منفرد بناتے ہیں۔
مشن کے دوران کچھ تکنیکی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں پیغام رسانی کے نظام اور خلائی بیت الخلا کی خرابی شامل تھی، تاہم مجموعی طور پر اس سفر کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشن کے دوران حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خلا باز جلد چاند کے قریب ترین مقام سے گزریں گے اور اس کے بعد زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کریں گے۔
دیکھیں

