World

اگر معاہدہ نہ ہوا تو تقریباً پورا ایران تباہ کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ کی ایک اور دھمکی

اگر معاہدہ نہ ہوا تو تقریباً پورا ایران تباہ کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ کی ایک اور دھمکی
۲۰۱ دن پہلے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں ختم ہونا چاہیے، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو بہت کم حصہ چھوڑ کر تقریباً پورا ایران تباہ کیا جا سکتا ہے۔

 

اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی زمینی فوج بھیجنا ضروری نہیں، تاہم اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ کل بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا۔

 

ٹرمپ نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، اور خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

اس سے قبل اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔

 

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ملک کو شدید تباہی کا سامنا ہوگا۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ منگل ایران کے لیے “پاور پلانٹ ڈے” اور “برج ڈے” ثابت ہو سکتا ہے۔

 

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا جائے گا اور کہا کہ “بس دیکھتے جاؤ۔”

 

یہ بیان اس 48 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے سے قبل سامنے آیا ہے جو ٹرمپ نے خود تہران کے لیے مقرر کی تھی۔

 

اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند ہے۔

 

ایک اور انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران جلد معاہدہ نہیں کرتا تو امریکا اہم تنصیبات کو تباہ کرنے اور تیل پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

 

 انہوں نے خبردار کیا کہ ایران بھر میں پل اور پاور پلانٹس تباہ ہوتے نظر آ سکتے ہیں۔

 

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے کچھ حکام مذاکرات میں شامل ہیں اور امکان ہے کہ پیر کو معاہدہ ہو سکتا ہے۔ 

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ ایرانی مذاکرات کاروں کو محدود عام معافی دی گئی ہے۔

 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں