جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیرمقدم، پاکستانی کوششوں کی تعریف

news-banner

دنیا - 08 اپریل 2026

امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا۔ 

 

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے امریکا ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے جنگ بندی کی شرائط پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔ 

 

ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا ہے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔ 

 

ادھر انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے۔ وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے.

 

  • چین اور سعودی عرب نے امریکا اور ایران میں ہونے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

 

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین نے خود بھی ایران امریکا جنگ بندی میں مثبت کردار ادا کیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل اور فوری جنگ بندی کا حامی رہا ہے۔

 

ماؤننگ نے کہا کہ ہمارا مقصد مشرق وسطیٰ اور خلیج میں دیریا امن قائم کرنا ہے، تنازعات کا حل فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔

 

سعودی عرب نے امریکا اور ایران جنگ بندی کے لئے پاکستان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

 

ترجمان سعودی وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور مستقل جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، امریکی صدر اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

 

دوسری جانب اماراتی صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک ایسی جنگ میں سرخرو ہوا جس سے ہم بچنا چاہتے تھے، ہم اپنی خودمختاری، وقار اور کامیابیوں کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے۔

 

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ پیچیدہ علاقائی منظرنامے میں مضبوط گرفت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ہماری قوت، استقامت اور ثابت قدمی نے اماراتی ماڈل کو مزید مستحکم کیا۔

 

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔

 

بیان میں کہا گیا کہ پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

 

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

 

بیان میں پاکستان کو اس پورے عمل میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔