نہ تم فائر کرو، نہ ہم‘: پاک، افغان قبائلی عمائدین میں غیر رسمی معاہدہ

news-banner

پاکستان - 14 اپریل 2026

اگرچہ پاکستان اور افغانستان عارضی جنگ بندی کے دوران ’کشیدگی کے خاتمے کے لیے جامع حل تلاش کرنے پر متفق ہوئے ہیں‘، تاہم اسی دوران سرحد کے دونوں پار قبائلی عمائدین بھی اس نوعیت کی کوششوں میں مصروف ہیں جو سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کر سکے۔

 

 

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان چترال میں ارندو کے مقام پر مقامی عمائدین کی سطح پر ’نہ تم فائر کرو، نہ ہم‘ کی بنیاد پر ایک غیر سرکاری و غیر رسمی معاہدہ طے پایا ہے اور قبائلی عمائدین کے مطابق اس معاہدے کی بدولت سرحدی دیہاتوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہو سکے گی۔

 

 اس معاہدے کا اعلان چترال سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کے 13 رکنی جرگے کے افغانستان کے صوبہ نورستان سے تعلق رکھنے والے 13 رکنی جرگے سے چھ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے۔ 

 

اس بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سیز فائر یا جنگ بندی یا اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دونوں دونوں ممالک میں سرکاری سطح پر طے پانے والا معاملہ ہے تو مقامی عمائدین اس ضمن میں کسی نوعیت کا کوئی معاہدہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اس بارے میں مقامی قبائلی رہنما حاجی سلطان محمد نے دعویٰ کیا کہ انھیں مقامی سطح پر انتظامیہ اور اور مقامی سکیورٹی حکام کی حمایت حاصل تھی اور اسی طرح افغانستان میں بھی عمائدین کو ان کی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور اس کے بعد ہی جرگے کا انعقاد ہوا۔

 

 جب اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر چترال راؤ ہاشم سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے رابطہ کیا تھا جس پر تین دن کے لیے مکمل جنگ بندی کی گئی، اس دوران ان عمائدین نے مذاکرات کیے جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

 

 یاد رہے کہ پاکستان، افغانستان سرحد گذشتہ سال اکتوبر سے بند ہے جبکہ رواں برس فروری میں حالات اس وقت سخت کشیدہ ہو گئے تھے جب دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے کیے گئے تھے۔ مقامی عمائدین کے مطابق سرحد پر مختلف مقامات پر حالات اب بھی کشیدہ ہیں ان میں چترال میں ارندو کے علاوہ باجوڑ کے ساتھ لگنے والی پاک، افغان سرحد لغڑی کے مقام پر اور ادھر شمالی وزیرستان میں غلام خان کے مقام پر سرحدی علاقوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث ان علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرکے قریب دیگر محفوظ علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

 

 چترال کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنما حاجی سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے سرحد کی دونوں جانب حالات کشیدہ تھے اور اگر کوئی گھر سے باہر نکلتا تھا تو مخالف کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آجاتا تھا، اور اس صورتحال کے باعث صرف ارندو میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 

 

انھوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث گذشتہ دو ماہ میں نورستان کے کچھ دیہاتوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی تھی جبکہ پاکستان میں ارندو کے دیہاتوں میں لوگ گھروں سے نکل نہیں سکتے تھے جس وجہ سے مقامی عمائدین اور علاقے میں سکیورٹی حکام اور انتظامی افسران سے رابطے کیے گئے اور انھوں نے جرگہ کی اجازت دی تھی۔ 

 

انھوں نے بتایا کہ مقامی عمائدین کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ نورستان برگیمٹال سے لے کر ناڑے تک نافذ العمل رہے گا جو پاکستان میں چترال کی سرحد سے لے کر، اپر دیر تک کی سرحد تک ہے۔ اس میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ لوگ پر امن رہیں گے اور جو لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں وہ واپس اپنے علاقوں میں آئیں گے اور حسب سابق زندگی گزاریں گے