کھیل - 17 اپریل 2026
موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز ، حکومت کو کمی پر غور کی ہدایت
تازہ ترین - 17 اپریل 2026
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ٹیکسوں میں کمی پر غور کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس پالیسی نہ صرف عوام کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا رہی ہے بلکہ یہ نظام غیر منصفانہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ ٹیکس نظام، اس کے مقاصد، اور اس کے مالی اثرات پر ایک جامع رپورٹ پیش کرے۔
اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر تقریباً 54 فیصد تک ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ 500 ڈالر سے زائد قیمت والے فونز پر یہ ٹیکس تقریباً 76 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح 700 سے 750 ڈالر مالیت کے فونز پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے گئے موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح تقریباً 25 فیصد ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ موبائل فونز پر انکم ٹیکس کو سیلز ٹیکس کی طرح نافذ کیا جا رہا ہے، جو کہ پالیسی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ نوید قمر نے کہا کہ جب پہلے ہی جنرل سیلز ٹیکس عائد ہے تو اضافی انکم ٹیکس لگانا غیر ضروری ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ عوام کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جو معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔
کمیٹی نے سی بی یو، سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کیٹیگریز میں ٹیکس کے فرق کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس الرٹس پر وصول کیے جانے والے چارجز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
کمیٹی نے ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے مکمل ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اسٹیٹ بینک، بینکوں اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اخراجات اور آمدن کی مکمل تفصیلات پیش کریں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور پے پاک سسٹم کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی نے اس نظام کو مزید فروغ دینے پر زور دیا تاکہ بین الاقوامی ادائیگی نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔
دیکھیں

