دنیا - 27 اپریل 2026
دورہ اسلام آباد انتہائی مفید رہا،مثبت مشاورت ہوئی،عراقچی
تازہ ترین - 27 اپریل 2026
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا دورہ انتہائی مفید رہا، دورۂ اسلام آباد میں حکام کے ساتھ مثبت مشاورت ہوئی۔
روس پہنچنے پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور ماسکو کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے مقصد سے روس آیا ہوں، عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ روسی صدر سے ملاقات میں جنگ کی پیش رفت اور موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لینے کا اچھا موقع ہو گا، یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی خاص اہمیت کی حامل ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔
ٹیلی گرام پر موجود اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ’مذاکراتی عمل میں بعض مقامات پر پیش رفت کے باوجود امریکہ کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات کا گذشتہ دور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا، اس لیے موجودہ صورتحال پر پاکستان میں دوستوں کے ساتھ مشاورت ناگزیر تھی۔
عباس عراقچی نے اپنے اس بیان میں کہا کہ ’پاکستان میں بہتر انداز میں مشاورت ہوئی اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں ماضی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ کن حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان و عمان دوروں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دورۂ اسلام آباد میں حکام نے ماضی کے واقعات اور ان مخصوص حالات کا جائزہ لیا جن کے تحت ایران امریکا مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دورۂ عمان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت ہوئی، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، اس لیے باہمی مشاورت ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر اس وقت جب اس گزر گاہ سے محفوظ آمد و رفت ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے، آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہونے کے ناطے باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے بات چیت کرنا فطری ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2 ساحلی ممالک کے ناطے ہمیں ہر ممکن اقدام میں ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے، دونوں کے مفادات اسی میں ہیں، ایران اور عمان کے درمیان اعلیٰ سطح کا اتفاق پایا جاتا ہے، دونوں ممالک متفق ہیں کہ ماہرین کی سطح پر بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
دیکھیں

