چین ،امریکا محاذ آرائی نقصان دہ،ہمیں حریف نہیں شراکت دار ہونا چاہیے،چینی صدر
دورۂ چین پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے آغاز پر ابتدائی کلمات میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ پوری دنیا اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور عالمی صورتحال ہنگامہ خیز ہے۔
چینی صدر نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے، کیا چین اور امریکہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں؟
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکا تعلقات میں سب سے اہم ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کے دوران کہا کہ تائیوان کا مسئلہ درست طریقے سے نہ سنبھالا تو امریکا و چین کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے لیے ابتدائی کلمات میں شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ کیا چین اور امریکہ ’مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کے لیے زیادہ استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا، دونوں ممالک کے شہریوں اور انسانیت کے مستقبل کے لیے باہمی تعلقات پر مبنی روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟‘
چینی صدر نے کہاکہ یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ، دنیا اور عوام کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کا جواب بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کی حیثیت سے مجھے اور آپ کو دینا ہے۔
صدر شی نے ٹرمپ اور امریکہ کو آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارک باد بھی دی۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات، اختلافات سے زیادہ ہیں۔ ایک کی کامیابی دوسرے کے لیے موقع ہوتی ہے اور مستحکم دوطرفہ تعلقات دنیا کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، جبکہ محاذ آرائی سے نقصان۔
چینی صدر نے کہا کہ ہمیں حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، ہمیں کامیابی اور خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔
چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر سمت دے سکیں گے۔چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران اپنے ابتدائی کلمات میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات ان کے لیے ’ایک اعزاز‘ ہے۔
ٹرمپ نے کہاکہ ہمارے تعلقات اچھے رہے ہیں اور جب مسائل پیش آئے تو ہم نے انھیں حل کر لیا۔ میں آپ کو فون کر لیا کرتا تھا اور آپ مجھے فون کر لیتے تھے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے ’ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا تھا ہم بہت جلد اسے حل کر لیتے تھے۔
چینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا: ’میں سب سے کہتا ہوں کہ آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ چین کے اس دورے میں دنیا کے ’بہترین کاروباری رہنماؤں‘ کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور ’آج یہاں صرف چوٹی کے لوگ ہی آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ ہونا اعزاز ہے، آپ کا دوست ہونا بھی اعزاز ہے‘ اور امریکہ اور چین کے تعلقات ’پہلے سے کہیں بہتر‘ ہوں گے۔
چین کے دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے چینی ہم منصب سے دو طرفہ بات چیت دو گھنٹے تک جاری رہی۔ مذاکرات کا یہ دورانیہ طے شدہ وقت سے دگنا تھا۔۔امریکی صدر سے دو گھنٹے طویل دو طرفہ بات چیت کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کی۔
انھوں نے کہا کہ چین کے دروازے امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کشادہ ہوں گے اور انھیں چین میں زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ بیجنگ باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کا خیر مقدم کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ساتھ جو وفد لائے ہیں اس میں اینویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ایپل کے ٹم کک سمیت ایک درجن سے زائد بڑی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
وفد میں ان کاروباری رہنماؤں کی شمولیت سے دونوں ممالک کے درمیان نئے معاہدوں کی امید بڑھ گئی ہے۔
چین آئے امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا۔ کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی وہاں پہنچے اور دونوں رہنماؤں نے تصاویر بنوائیں۔
ایک مرکزی حال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہاکہ یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے، چین خوبصورت ہے۔
قدیم عبادت گاہوں کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کے لیے دعا کرتے تھے۔
ٹرمپ کے ہمراہ آنے والے میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے۔ اور جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا: ’انتظار کریں۔