ٹرمپ کی سخت پالیسیوں کے باوجود ایران متعلق مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔اوباما
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران پالیسی پر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے دور میں تہران کے ساتھ معاملہ فوجی کارروائی کے بغیر طے پایا تھا جبکہ موجودہ کشیدگی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے گئی۔
ایک حالیہ انٹرویو میں بارک اوباما نے دعویٰ کیا کہ اُن کی انتظامیہ نے مذاکرات کے ذریعے ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو نمایاں حد تک محدود کروایا اور اس مقصد کے لیے کسی جنگ یا بڑے فوجی تصادم کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
اوباما کا کہنا تھا کہ اُس وقت نہ بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی نہ آبنائے ہرمز بند ہوئی اور نہ ہی خطے کو ایسی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑا جیسا آج دیکھنے میں آرہا ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کے باوجود ایران کے حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔
سابق امریکی صدر نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اوباما دور کی ایران پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔