ایران جنگ پاکستان کے معاشی اہداف متاثر کر سکتی ہے۔آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مضبوط اقتصادی اقدامات کے سبب پاکستان کی معاشی ترقی کو سہارا ملا ہے لیکن مشرقِ وسطی کی جنگ نے معاشی منظر نامہ کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہے کیونکہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان کے معاشی اہداف کو متاثر کر سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، مہنگائی قابو میں رہی، کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا ہے۔
آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات نے قلیل مدت میں پاکستان کے معاشی منظر نامے کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے معشیت پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا 81 فیصد درآمدی ایندھن خلیجی ممالک سے آتا ہے جبکہ ترسیلاتِ زر جو پاکستان کے غیر زرمبادلہ کے ذخائر کا سب سے اہم ذریعہ ہے اُس کا بھی 55 فیصد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق جنگ نے خلیجیٰ ممالک کی معیشت پر منفی اثرات ڈالے ہیں اور ان حالات میں وہاں موجود پاکستانی افرادی قوت کی واپسی سے ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں۔
بیرون ممالک سے بھجوائی جانی والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی غیر ملکی بیرونی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت حکومتی پالیسیوں سے معیشت کو سنبھالنے اور اعتماد بحال کرنے میں کافی بہتری آئی ہے، حالانکہ دنیا میں مشکل حالات ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھی شامل ہے لیکن عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جنگ پاکستان کے معاشی اہداف پر اثرانداز ہو سکتی ہے جس سے ممکنہ طور پر رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نموں میں اعشاریہ دو فیصد تک کی کمی اور آئندہ مالی سال میں اعشاریہ چھ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے اور مہنگائی کی شرح میں ڈیڑھ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
رواں مالی سال کے پاکستان نے اکثر اہداف حاصل کیے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی اور حکومتی اخراجات کے اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تیسرے جائزے رپورٹ میں پاکستان کے لیے گیارہ نئے انتظامی اہداف مقرر کیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر مزید شرائط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، آئی ایم ایف کے فریم ورک کے تحت آئندہ بجٹ کو قومی اسمبلی سے منظور کروایا جائے اور قومی احتساب بیورو میں شفافیت اور خود مختاری لائے جائے تاکہ احتساب کا نظام بہتر ہو۔