ون کانسٹیٹیوشن ایونیو عمارت ،احسان مانی، نسیم زہرہ کی بھی انٹرا کورٹ اپیل
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو عمارت کے مزید رہائشیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے 30 اپریل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی۔
احسان مانی، نسیم زہرہ اور مائرہ فیصل کی جانب سے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی۔
اپیل کنندگان کے مطابق وہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پراجیکٹ میں اپارٹمنٹس کے قانونی سب لیزی اور قابض ہیں۔
انٹرا کورٹ اپیل میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 9 جنوری 2019 کے حکم میں ان ٹاورز کی زمین کو دیگر غیر تعمیر شدہ زمین سے الگ قرار دیا تھا۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹاور بی اور سی کی تعمیر کے لیے لیز کی رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے، ٹاورز کو بی این پی کے کسی ڈیفالٹ کے بدلے بحقِ سرکار ضبط نہیں کیا جا سکتا۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے لیز منسوخ کرنے کے بعد ٹاورز کا انتظام سنبھال کر سب لیز ہولڈرز کی حیثیت تسلیم کی تھی۔
استدعا کی گئی ہے کہ سنگل بینچ کے فیصلے کا پیراگراف نمبر 30 کالعدم قرار دیا جائے، پیراگراف نمبر 30 سپریم کورٹ کے احکامات کے منافی ہے۔
اپیل کنندگان نے استدعا کی ہے کہ ان کے لیز ہولڈ حقوق کو جائز قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے کو ان کے پرامن قبضے میں مداخلت سے روکا جائے۔