Pakistan

پنکی نیٹ ورک میں خواتین اور غیر ملکیوں سمیت 300 افراد شامل ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی

پنکی نیٹ ورک میں خواتین اور غیر ملکیوں سمیت 300 افراد شامل ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی
۱ منٹ پہلے

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا ہے کہ پنکی کے نیٹ ورک میں منشیات کی سرگرمیوں میں ملوث 300 افراد شامل ہیں جن میں 20 خواتین بھی ہیں جو لاہور میں ہیں، کچھ افریقی باشندے اور 9 رائیڈرز بھی اس گینگ کا حصہ ہیں۔ منشیات لاہور میں تیار کی جاتی تھی پھر کراچی بھیجی جاتی تھی۔ ملزمہ کو لاہور سے نہیں بلکہ کراچی سے ہی گرفتار کیا گیا۔ اس کے موبائل فرانزک سے 869 نمبرز ملے ہیں۔ اس کیس میں چار افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

 

گزشتہ روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو حساس ادارے کی انٹیلیجنس معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گرفتاری کراچی سے ہوئی ہے، لاہور سے نہیں۔ اس کارروائی میں پنکی کو گرفتار کر کے ملزمہ کے قبضے سے ڈیڑھ کلو کوکین، کوکین بنانے والا کیمیکل اور ایک پستول بھی برآمد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گارڈن تھانے کی حدود میں کارروائی کر کے یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ گرفتاری کے معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر 3 افسران و اہلکاروں کو معطل کر کے نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

 

انہوں نے تسلیم کیا کہ ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے موقع پر غفلت ہوئی۔ آئی جی سندھ نے ان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی ہے۔ دو دن میں پنکی سے تفتیش کی گئی ہے۔ ملزمہ 2014 سے کام کر رہی تھی اور اس نے 2018 میں کراچی میں کام شروع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دورانِ تفتیش پتہ چلا ہے کہ پنکی پر صرف 20 مقدمات سندھ میں درج ہیں جن میں سے 17 پرانے مقدمات ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں ہے۔ پنکی کے موبائل فون کے فرانزک سے 869 نمبرز سامنے آئے ہیں جن میں سے 240 نمبرز کی لوکیشن ٹریس کر لی گئی ہے۔ ان میں 132 نمبرز کراچی کے اور باقی دیگر علاقوں کے ہیں۔ ملزمہ کی جانب سے 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔ سب سے بڑی ٹرانزیکشن “اینا” کے نام سے ہوئی۔ ملزمہ کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ایک منشیات کے عادی شخص کی موت واقع ہوئی جس کے فون سے پنکی کا نمبر ملا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سائبر کرائم سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ بہت سے صحافیوں کے پاس اس حوالے سے معلومات تھیں لیکن انہوں نے شیئر نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حساس کیس ہے جس سے ہمارے بچے متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے تفتیش کو انتہائی احتیاط سے آگے بڑھانا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں