سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو “انمول پنکی کیس” پر بریفنگ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں “انمول پنکی کیس” پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس سندھ نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ایڈیشنل آئی جی سندھ نے بتایا کہ انمول عرف پنکی کو جوائنٹ آپریشن میں گرفتار کیا گیا اور اس وقت وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے کچھ پہلو ابھی زیر التوا ہیں اور تحقیقات جاری ہیں، اس لیے تمام تفصیلات پر اس مرحلے پر بات نہیں کی جا سکتی۔
ڈی جی اے این ایف سندھ نے کہا کہ جب تک انمول کو اے این ایف کے حوالے نہیں کیا جاتا، وہ اس کیس پر تفصیلی مؤقف نہیں دے سکتے۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ کے مطابق 12 مئی کو کراچی پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اس کیس پر کام کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انمول پنکی تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی میں ملوث رہی ہے۔
ان کے مطابق پنکی کے نیٹ ورک کی جانب سے فراہم کردہ منشیات کے باعث ایک منشیات کے عادی شخص کی موت بھی واقع ہوئی۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ اس کیس میں دو مرتبہ ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق انمول 2008 میں ماڈلنگ کے کیریئر کے لیے لاہور گئی تھی اور بعد ازاں منشیات کے کاروبار میں ملوث ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انمول نے ایک وکیل سے شادی کی اور بعد میں ایک پولیس افسر سے بھی شادی کی۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ کے مطابق انمول اے این ایف کے ایک کیس میں اشتہاری ہے اور لاہور میں اس کے خلاف پانچ مقدمات بھی درج ہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ پنکی کیس میں ہمیں زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قائمہ کمیٹی کا اس کیس پر بریفنگ لینا ممکنہ طور پر کیس کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ “پاکستان میں بدمعاش صرف سرکار ہے، اختیار بھی صرف اسی کے پاس ہے”۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ پنکی کے معاملے پر پولیس اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔