محسن نقوی کےساتھ ملاقات میں ہمارا خاندان شامل نہیں تھا۔حلیمہ خان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن حلیمہ خان نے ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر (چیئرمین پی ٹی آئی) اور سہیل آفریدی (وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا) نے محسن نقوی (وفاقی وزیر داخلہ) سے ملاقات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کا کوئی رکن اس ملاقات میں موجود تھا۔
حلیمہ خان بنیادی طور پر ایک ایکس پوسٹ کا جواب دے رہی تھیں، جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور محسن نقوی کی ملاقات بیرسٹر گوہر کے گھر میں ہوئی۔
اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر حلیمہ خان کی پوسٹ کا حوالہ دے کر اپنا مؤقف بیان کیا۔ انھوں نے لکھا: ’میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔‘
گذشتہ روز پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے ایک بار پھر تحریک انصاف کا یہ مطالبہ دہرایا کہ ’عمران خان کا علاج ان کی فیملی کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں الشفا انٹرنیشنل ہسپتال سے کرایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ’ہمارا رویہ مزید سخت ہو گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پریس کانفرنس میں ممبران صوبائی اسمبلی اور وزرا کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت جمعے کے روز احتجاج میں شرکت کی ہدایت بھی کی۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے حکومت سے حالیہ رابطوں کے معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر ملاقات کی تھی۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ ملاقات میں خیبرپختونخوا، خصوصاً بنوں میں دہشت گردی کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق وزیر داخلہ نے زیادہ تر گفتگو اس بات پر کی کہ دہشتگردی پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے، جبکہ سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری اور ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حلیمہ خان ملاقات کا حصہ تھیں۔ ‘صرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بیرسٹر گوہر نے شرکت کی، اور ملاقات کا مقصد خیبرپختونخوا خصوصاً بنوں میں دہشت گرد حملوں پر گفتگو تھا۔’
بعد ازاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات میں بنوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات اور صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بات ہوئی، جبکہ اس میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی گئی۔