الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے، عالمی کار ساز کمپنیاں دباؤ کا شکار
دنیا کی بڑی کار ساز کمپنیاں اس وقت ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہیں کیونکہ چین نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری بلکہ بیٹری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید سافٹ ویئر اور خودکار مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھی تیزی سے عالمی برتری حاصل کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی آٹو انڈسٹری ایک تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں روایتی گاڑیاں بنانے والی مغربی اور جاپانی کمپنیاں چینی حریفوں کے سامنے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔
بی بی سی کے مطابق بیجنگ اور ہیفے میں قائم جدید آٹو فیکٹریوں کے مشاہدے سے واضح ہوا ہے کہ چینی کمپنیاں انتہائی خودکار پیداواری صلاحیت حاصل کر چکی ہیں، جہاں گاڑیاں بہت کم وقت میں تیار ہو رہی ہیں۔ بعض فیکٹریوں میں ایک نئی گاڑی صرف 76 سیکنڈ میں اسمبلی لائن سے باہر آ رہی ہے، جبکہ روبوٹک ٹیکنالوجی اور جدید سافٹ ویئر کی مدد سے پیداواری عمل تقریباً مکمل طور پر خودکار بنایا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی برتری صرف گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ اس نے بیٹریز، الیکٹرک پرزہ جات اور مینوفیکچرنگ مشینری کی عالمی سپلائی چین پر بھی مضبوط گرفت قائم کر لی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق چین میں ایک چھوٹی الیکٹرک ایس یو وی تیار کرنے کی لاگت ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں کم از کم 30 فیصد کم ہے، جس کی بڑی وجہ کم قیمت بیٹریاں اور مضبوط صنعتی نیٹ ورک ہے۔
چینی کمپنیوں کی کامیابی میں حکومتی معاونت بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں چینی حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹری انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے مقامی کمپنیوں کو تحقیق، توسیع اور قیمتوں میں کمی کے مواقع ملے ہیں۔
اسی وجہ سے بی وائی ڈی، نیو، ایکس پینگ اور شیاؤمی جیسی کمپنیاں عالمی سطح پر تیزی سے ابھر رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق آٹو انڈسٹری اب محض گاڑیوں کی صنعت نہیں رہی بلکہ یہ “اسمارٹ فونز آن وہیلز” میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں سافٹ ویئر، کنیکٹیویٹی اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔
چینی کمپنیاں گاڑیوں کو اسمارٹ فونز، ایپس اور اسمارٹ ہوم سسٹمز سے جوڑ کر ایک مکمل ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہیں، جس میں مغربی کمپنیاں ابھی پیچھے دکھائی دیتی ہیں۔
اس بدلتی صورتحال کے باعث عالمی کمپنیوں کو اپنی حکمت عملی بدلنا پڑ رہی ہے۔ کئی بڑی مغربی کمپنیوں نے چینی اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھا دی ہے تاکہ جدید سافٹ ویئر اور الیکٹرک ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
بعض یورپی اور امریکی کمپنیاں اب چینی ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کو اپنے ماڈلز میں استعمال کرنے پر بھی غور کر رہی ہیں۔