یورپ میں شدید گرمی،فرانس میں ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں
فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث ایک ہزار اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں زیادہ تر 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد شامل ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق فرانسیسی وزارتِ صحت کے ماتحت صحتِ عامہ کے ادارے نے بتایا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ گھروں اور نگہداشت مراکز سے متعلق تمام اعداد و شمار ابھی مکمل طور پر موصول نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ 20 جون سے جاری شدید گرمی کی لہر نے یورپ کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث متعدد عجائب گھروں اور تعلیمی اداروں کو معمول سے پہلے بند کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق آج 191 ملین سے زائد افراد کم از کم 35 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجۂ حرارت کا سامنا کریں گے۔
شدید گرمی سے جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ، سلوواکیا، سربیا، کروشیا، اٹلی، آسٹریا اور مغربی یوکرین سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
جرمنی میں شدید گرمی کے دوران جھیلوں اور دریاؤں میں نہاتے ہوئے مختلف حادثات کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔
رپورٹ میں شامل ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی گرمی انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ اس کی فوری وجہ ’’اومیگا بلاک‘‘ نامی موسمی نظام کو قرار دیا جا رہا ہے جو گرم ہوا کو ایک ہی خطے میں طویل عرصے تک برقرار رکھتا ہے۔
دوسری جانب آئندہ دنوں میں شدید گرمی میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔