مظفرآباد میں بازار جزوی بحال، ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بحال
آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بازار کھولنے کے اعلان کے بعد پیر کے روز شہر میں جزوی طور پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
نو جون سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال جاری تھی، جس کے باعث کئی روز تک کاروباری اور سفری سرگرمیاں متاثر رہیں۔ گزشتہ ہفتے 27 جون کو مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر بازار کھولنے اور ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس اعلان کے بعد مظفرآباد شہر کے مختلف علاقوں میں تقریباً 50 فیصد دکانیں کھل چکی ہیں، جبکہ تمام اہم شاہراہیں آمد و رفت کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ نو جون کے بعد پہلی مرتبہ شہر میں معمول کی نقل و حرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے، جس کے باعث بینک اگرچہ کھلے ہیں لیکن برقی نظام بند ہونے کی وجہ سے معمول کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے کاروباری مراکز اور خدماتی مراکز بھی بند ہیں۔
شہر کے مرکزی تجارتی علاقے خواجہ بازار اور مین بازار، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیا فروخت کی جاتی ہیں، زیادہ تر کھل چکے ہیں جبکہ چند دکانیں اب بھی بند ہیں۔
مدینہ مارکیٹ، جہاں ملبوسات، تیار شدہ کپڑوں اور آرائشی اشیا کی دکانیں قائم ہیں، وہاں محدود تجارتی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور تقریباً 30 فیصد دکانیں کھلی ہیں۔
سی ایم ایچ روڈ پر قائم طبی بازار، جس میں ادویات کی دکانیں، تشخیصی تجربہ گاہیں اور علاج گاہیں شامل ہیں، مکمل طور پر کھل چکی ہے اور معمول کے مطابق کام جاری ہے۔
مظفرآباد کے مرکزی لاری اڈے پر تمام سفری اڈے دوبارہ فعال ہو گئے ہیں اور مختلف راستوں پر مسافر گاڑیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ لاری اڈے سے ملحقہ بیشتر دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔
دوسری جانب شہر کے تمام پیٹرول پمپ تاحال بند ہیں، جس پر ٹرانسپورٹرز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ تو بحال کر دی گئی ہے لیکن ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث گاڑیاں چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
مرکزی انجمن تاجران کے سینیئر نائب صدر گوہر کشمیری کا کہنا ہے کہ انجمن کے اعلان کے بعد بازار کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش کے باعث متعدد دکانداروں کو بازار کھولنے کے فیصلے کی بروقت اطلاع نہیں مل سکی، جبکہ پیٹرول پمپ بند ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ابھی تک دکانیں کھولنے نہیں پہنچ سکے۔
ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بتایا کہ 70 فیصد بازار کھل چکے ہیں اور ٹریفک بحال ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور انٹرنیٹ کا مسئلہ جلد حل کر دیا جائے گا۔