نئے ٹیلی کام بل سے نجی جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا،شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل پر اتفاقِ رائے سے قانون سازی کی جا رہی ہے اور اس کے تحت کسی بھی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور پارلیمنٹ کو ٹیلی کام بل کے حوالے سے آگاہ کرنا ضروری تھا کیونکہ پرانا قانون موجودہ دور کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ ان کے مطابق بل کا مقصد وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ بطور وزیر آئی ٹی ان کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی کام بل چھ ماہ تک قومی اسمبلی میں زیر غور رہا جبکہ سینیٹ کی کمیٹی میں بھی اس پر تفصیلی بحث کی گئی، جو جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے چھ ترامیم کے ساتھ بل منظور کیا۔ ان کے مطابق بل بنیادی طور پر ان ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق ہے جو ٹیلی کام کمپنیوں سے معاہدے کرنے کے بعد عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شہری اپنی نجی پراپرٹی پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر نصب کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی کام بل کے حوالے سے ان اور سیکرٹری آئی ٹی کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے، جس پر انہوں نے وزیراعظم سے انکوائری کرانے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر وہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
شزا فاطمہ خواجہ نے مزید کہا کہ نجی پراپرٹیز سے متعلق مختلف کیٹیگریز کا تعین کیا جائے گا اور نئے ٹیلی کام بل کا بنیادی مقصد ملک میں تیز رفتار، بہتر اور جدید انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔