Pakistan

شمسو بی بی کو مالی لین دین پر قتل کیا گیا،جان سے مارنے کی دھکیاں ملی تھیں

شمسو بی بی کو مالی لین دین  پر قتل کیا گیا،جان سے مارنے کی دھکیاں  ملی تھیں
۳۲ منٹ پہلے

راولپنڈی کے تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں 14 اگست 2026ء کو معروف خاتون ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمانہ (سمی)  کو  موٹر سائیکل سواروں نے دن دیہاڑے  ان کی لینڈ کروزر گاڑی پرفائرنگ کرکے انہیں قتل کر دیا۔فائرنگ کے اس واقعے میں ان کی بہن   زخمی ہوئیں۔

 

معلوم ہوا ہے کہ  شمسو بی بی کا کچھ افراد کے ساتھ مالی لین دین کا معاملہ تھا،ان کے والد نے دعویٰ کیاہے  مقتولہ نے قتل کی واردارت کرنے والے ملزمان سے اپنی رقم واپس مانگی تھی جس پر انہیں پہلے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پھر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے ان کو قتل کر دیا گیا،مقتولہ کے بھائی جو اس واقعے کا عینی شاہد بھی ہے نے کہا ہے کہ وہ حملہ آوروں کو شناخت کر سکتا ہے۔

 

 مقتولہ کا پس منظر۔

 

 مقتولہ کا اصل نام شمسو بی بی تھا، جبکہ سوشل میڈیا پر وہ عائشہ گلمانہ یا سمی/گلمانہ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔

 

  وہ گزشتہ چار سال سے ٹک ٹاک پر سرگرم تھیں اور ان کے فالوورز کی تعداد 13 لاکھ سے زائد تھی۔

 

  ان کا آبائی تعلق لوئر دیر سے تھا، تاہم گزشتہ سات سے آٹھ ماہ سے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ٹیکسلا کے علاقے فیصل ہلز میں رہائش پذیر تھیں۔

 

 

گھر سے باہر بلایا گیا۔

 

 

 14 اگست کی شام عائشہ گلمانہ کو مبینہ طور پر کاشف عرف کاشی نامی شخص نے فون کیا اور فوری طور پر گھر سے باہر آنے کو کہا۔

 

گاڑی پر حملہ:

 

 عائشہ اپنے بھائی نعمت اللہ اور 15 سالہ چھوٹی بہن اسمیہ (بعض رپورٹس میں عاصمہ) کے ہمراہ گاڑی میں روانہ ہوئیں۔ جب وہ جی ٹی روڈ پر ٹیکسلا بائی پاس کے قریب ایک نجی پٹرول پمپ کے پاس پہنچیں تو موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔

 

عائشہ کو گردن میں دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ فائرنگ کے فوراً بعد گاڑی بے قابو ہو کر سامنے سے آنے والے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔ ان کی 15 سالہ بہن اسمیہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ان کا بھائی حملے میں محفوظ رہا۔

 

 

 ایف آئی آر اور نامزد ملزمان۔

 


ٹیکسلا پولیس نے مقتولہ کے والد فضل صاحبزادہ کی مدعیت میں قتل، اقدامِ قتل اور جرم میں معاونت سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

 

 مالی تنازع،دھمکیاں۔

 

 

 ایف آئی آر کے مطابق عائشہ گلمانہ کا کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی افراد کے ساتھ لاکھوں روپے کے لین دین کا مبینہ تنازع تھا۔ مقتولہ نے مبینہ طور پر اپنی رقم واپس مانگی تھی، جس کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ عائشہ نے قتل سے قبل ان دھمکیوں کے حوالے سے اسلام آباد پولیس کو تحریری درخواست بھی دی تھی۔

 

 

کرائے کے قاتلوں سے قتل کروایاگیا۔

 

 

 مقتولہ کے والد نے ایف آئی آر میں شبہ ظاہر کیا کہ کوثر اور جاوید نے مبینہ طور پر عائشہ کی رقم ہڑپ کرنے کی نیت سے کاشف کاشی کے ذریعے انہیں گھر سے باہر بلوایا اور پھر خود یا نامعلوم شوٹرز کے ذریعے انہیں قتل کروایا۔

 

مقتولہ کا بھائی نعمت اللہ حملے کا عینی شاہد ہے اور اس نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو سامنے آنے پر شناخت کرسکتا ہے۔ زخمی بہن، جو پمز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، بھی کیس کی اہم گواہ ہیں۔

 

پولیس تفتیش۔

 

 ٹیکسلا پولیس کی ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن یونٹ (HIU) جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقتولہ کے موبائل فون کے ڈیٹا، بشمول کال ریکارڈز، کی مدد سے تفتیش کر رہی ہے۔ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق مرکزی ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں