قتل کیس میں دیت کی رقم کتنی ہوگی؟فیصلہ محفوظ
قتل کیس میں دیت کی رقم کتنی ہوگی اور اس کا تعین کیسے کیا جائے گا؟ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے مجرم ندیم خان کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔
مجرم کے وکیل نے دورانِ سماعت کہا کہ مجرم اپنی سزا پوری کر چکا ہے، اب صرف دیت کی رقم ادا نہ کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔
پراسیکیوٹر ارشد حسین نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ رقم کے تعین سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، جبکہ آج کل دیت کی رقم ایک کروڑ 97 لاکھ روپے ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ دیت کی رقم وقوعے، گرفتاری یا سزا کے وقت کے مطابق مقرر کی جائے گی؟
جسٹس صلاح الدین نے ریمارکس دیے کہ قتل کرنا تھوڑا مہنگا ہو تو شاید لوگ رک جائیں۔ سعودی عرب میں آج بھی دیت کے طور پر 100 اونٹ دیے جاتے ہیں۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ وقت پر فیصلہ نہ ہونا نظام کی خرابی ہے، اور نظام کی خرابی کی سزا ملزم کو نہیں دی جا سکتی۔
پراسیکیوٹر ارشد حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی عمر کا تعین تو گرفتاری کے وقت سے ہوتا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ تمام پراسیکیوٹرز اس معاملے پر اپنی تحریری معروضات جمع کروا دیں۔