جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے گزشتہ 2 برسوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس جمع
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں زیادہ انکم ٹیکس وصول کرلیا۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کے باوجود تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایف بی آر نے رواں برس جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے 44 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے 42 ارب روپے جبکہ مالی سال 2023-24 کے جولائی میں 30 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 2 ارب روپے زیادہ رہی، جبکہ دو سال قبل جولائی کے مقابلے میں وصولی میں 14 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سالانہ 22 لاکھ روپے سے زائد آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی مختلف سلیبز میں کمی کی تھی۔
حکومت نے سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد کی ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردی تھی۔
اسی طرح سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدنی والی سلیب پر انکم ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کردی گئی۔
سالانہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد جبکہ سالانہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدنی والی سلیب کے لیے شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کردی گئی تھی۔
ٹیکس کی شرح میں کمی کے باوجود جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے وصولی میں اضافہ ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی اور تنخواہوں سے کٹوتی کے نظام کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔