Breaking News

سی سی ڈی کی پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان پر غلط فائرنگ،بے گناہ بچی مارنے کی تصدیق

سی سی ڈی کی پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان پر غلط فائرنگ،بے گناہ بچی مارنے کی تصدیق
۱ منٹ پہلے

سی سی ڈی کی طرف سے چکوال میں ایک پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کو غلط طور پر ڈکیت گروہ قرار دے کر ان کی گاڑی پر فائرنگ کرنے اور بے گناہ بچی کو جان سے مارنے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

 

10 اور 11 جون کی شب پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کی گاڑی پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب (سی سی ڈی) کے ایک اہلکار کو قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔

 

اس واقعے میں 9 سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی لڑکی ہانیہ احمد جاں بحق ہو گئی تھیں، جبکہ اُن کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہو گئے تھے۔

 

9 سالہ ہانیہ احمد اور اُن کا خاندان چکوال میں اپنی کرائے کی گاڑی میں موجود تھا، جب پولیس کے بقول مسلح ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں لوٹنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے ساتھ ہی پیش آیا تھا۔

 

 

تحقیقاتی رپورٹ

 

 

مجسٹریٹ ریحانہ کوثر کی عدالت میں 200 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ملزم سی سی ڈی اہلکار نے انچارج کی اجازت کے بغیر اور ڈیوٹی سے ہٹ کر معصوم شہریوں پر جان سے مارنے کی نیت سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کی وجہ سے ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ اُن کے والد اور بھائی شدید زخمی ہوئے۔

 

 

ملزم کا مؤقف

 

 

رپورٹ کے مطابق ملزم کانسٹیبل نے اپنا یہ مؤقف دہرایا کہ وہ 10 اور 11 جون کی درمیانی رات سی سی ڈی تھانے کے احاطے میں مرکزی گیٹ کے پاس کھڑا تھا، جب شور کی آواز سن کر وہ تھانے سے باہر نکلا۔

 

ملزم نے بتایا کہ گلی میں سفید رنگ کی کار کھڑی تھی اور 2 مسلح ملزمان ڈکیتی کی واردات میں مصروف تھے۔ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں دیکھتے ہی ایک شخص نے اُس پر فائر کیا، جس کے جواب میں کانسٹیبل نے بھی ڈکیتی کرنے والوں پر فائرنگ کی۔

 

ملزم نے بیان میں کہا ہے کہ میں اپنے اوپر ہونے والی فائرنگ سے بچنے کے لیے دیوار کی اوٹ لی اور اسی اثنا میں گاڑی تیزی سے اسلامیہ چوک کی جانب بھگائی گئی، جس پر میں بھی موٹر سائیکل پر لفٹ لے کر گاڑی کے پیچھے گیا۔

 

 

 

ملزم نے کسی افسر سے اجازت نہیں لی

 

 

 

تاہم تھانے میں اُس وقت موجود ڈیوٹی افسر انسپیکٹر جہانزیب خان نے ملزم کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملزم نے اُن کی یا کسی دوسرے سینئر افسر کی اجازت کے بغیر سرکاری رائفل سے فائرنگ کی اور اجازت کے بغیر ایک پرائیویٹ موٹر سائیکل پر گاڑی کا تعاقب کیا۔

 

انکوائری رپورٹ کے مطابق انسپیکٹر جہانزیب خان کے اس بیان کی تصدیق اُس وقت تھانے میں موجود 3 دیگر اہلکاروں نے بھی کی ہے۔

 

 

 

ملزم کا بیان غلط قرار

 

 

 

تحقیقاتی رپورٹ میں ملزم کانسٹیبل کے مؤقف کو، کہ انہوں نے ڈاکوؤں پر حقِ دفاع کے تحت فائرنگ کی، غلط اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے پستول کی گولیوں کے 14 جبکہ کلاشنکوف کی گولیوں کے 13 خول ملے۔

 

 

 

34 گواہان کے بیانات

 

 

 

رپورٹ میں 34 گواہان کے بیانات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں عینی شاہد احمد نواز بھی شامل ہیں، جو محلہ سرکلر روڈ چکوال کے رہائشی ہیں۔

 

 

احمد نواز نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ وہ کسی شخص کا جنازہ پڑھ کر واپس آ رہے تھے، اس وقت ان کے سامنے کلاشنکوف سے مسلح ملزم کانسٹیبل نے سامنے جاتی ہوئی کار پر یکے بعد دیگرے فائر کیے۔

 

بعد میں پتا چلا کہ کانسٹیبل نے جس گاڑی پر فائرنگ کی، اس میں سوار خاندان اُن ہی کا رشتہ دار تھا۔

 

رپورٹ کے مطابق ابھی تک پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے فائر کی گئی گولیوں، ہانیہ احمد، عدیل احمد اور ان کے بیٹے عفان احمد کو لگنے والی گولیوں اور خون کے نمونوں کے متعلق حتمی رائے موصول نہیں ہوئی ہے۔

 

اگست میں عدالتی تعطیلات کی وجہ سے ستمبر میں اس مقدمے کا باضابطہ ٹرائل شروع ہو گا۔

 

 

 

دونوں مبینہ ڈاکو وارداتوں میں ملوث تھے

 

 

 

رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں ملوث دونوں مبینہ ڈاکوؤں کی شناخت محمد عباس اور محمد فیاض کے ناموں سے ہوئی ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ملزمان ریکارڈ یافتہ تھے۔ پولیس کے مطابق محمد عباس 15 جبکہ محمد فیاض 12 مختلف جرائم کے مقدمات میں ملوث تھے۔

 

یاد رہے کہ سی سی ڈی کے مطابق یہ دونوں مبینہ ڈاکو 11 جون کی ہی رات چکوال میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ’’اپنے ساتھیوں‘‘ کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس کے مطابق دونوں مبینہ ڈاکوؤں کے سر میں گولیاں لگی تھیں۔

 

محمد عباس سنہ 2021 میں چکوال میں ہونے والی 2 ڈکیتیوں کے سلسلے میں گرفتار بھی ہوئے تھے۔

 

انکوائری رپورٹ کے مطابق 10 اور 11 جون کی درمیانی رات دونوں مبینہ ڈاکوؤں نے آسٹریلوی خاندان کو لوٹنے سے پہلے 2 دکانوں پر بھی ڈکیتی کی تھی۔

 

ڈاکوؤں کی ہلاکت کے بعد دونوں دکانوں کے مالکان اور ایک خاتون، جن سے سونے کی بالیاں لوٹی گئی تھیں، نے تصاویر دیکھ کر انہیں پہچان لیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں