Pakistan

خلع میں شوہر وہی حق مہر واپس مانگ سکتا ہے جو اس نے اداکیا ہو،لاہور ہائیکورٹ

خلع میں شوہر وہی حق مہر واپس مانگ سکتا ہے جو اس نے اداکیا ہو،لاہور ہائیکورٹ
۱۴ گھنٹے پہلے

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ خلع کی صورت میں شوہر صرف اسی حق مہر کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے جس کی ادائیگی اس نے خود کی ہو۔ اگر حق مہر میں شامل سونا خریدنے کے لیے رقم بیوی کے والد نے فراہم کی ہو اور شوہر اپنی جانب سے اس کی ادائیگی ثابت نہ کر سکے تو وہ سونا یا اس کی قیمت واپس لینے کا حقدار نہیں ہوگا۔

 

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے درمیان تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی اور 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے سے متعلق حکم کالعدم قرار دے دیا۔

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دستیاب مجموعی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ 11 تولے سونا خریدنے کے لیے رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، جبکہ شوہر اپنی جانب سے رقم کی ادائیگی کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ عدالت کے مطابق محض نکاح نامے میں کسی چیز کو حق مہر کے طور پر درج کر دینے سے شوہر اس کی واپسی کا حقدار نہیں بن جاتا۔

 

عدالت نے واضح کیا کہ خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کا اصول اسی وقت لاگو ہوگا جب یہ ثابت ہو کہ متعلقہ حق مہر حقیقتاً شوہر کی جانب سے ادا کیا گیا تھا۔ اگر شوہر ادائیگی ثابت نہ کر سکے تو بیوی کو ایسا مال واپس کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا جس کی خریداری کے لیے رقم اس کے والد نے فراہم کی ہو۔

 

فیصلے میں عدالت نے شوہر کی مالی حیثیت سے متعلق متضاد مؤقف کو بھی اہم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ شوہر ایک جانب 19 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا گھر اور 11 تولے سونا خریدنے کی مالی استطاعت کا دعویٰ کرتا رہا، جبکہ دوسری جانب نابالغ بچے کے نان نفقہ کے معاملے میں اپنی مالی حیثیت کم ظاہر کرتا رہا۔

 

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ ادا کرنا والد کی صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے، اس لیے والد اپنی آمدن کم ظاہر کرکے اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

 

گھر کی ملکیت سے متعلق تنازع پر عدالت نے کہا کہ بینک ریکارڈ اور گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوا کہ گھر کی خریداری کے لیے رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، جبکہ شوہر اپنے وسائل سے گھر خریدنے کے دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد دستاویز پیش نہیں کر سکا۔

 

عدالت نے خاتون کی جانب سے گھر اپنے والد کے نام تملیک کرنے کے اقدام کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے شوہر کا یہ اعتراض مسترد کردیا کہ والد کو گھر کا قبضہ منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق خاتون خود گھر کی قانونی مالک اور وہاں رہائش پذیر تھی، اس لیے ہر صورت میں قبضے کی الگ سے ظاہری منتقلی ضروری نہیں تھی۔

 

تاہم لاہور ہائیکورٹ نے 22 تولے زیورات اور 63 ہزار روپے زچگی کے اخراجات کی واپسی سے متعلق دعوے مسترد کرنے کا ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

 

عدالت نے کہا کہ خاتون یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ مذکورہ زیورات شوہر یا اس کے خاندان کے قبضے میں رہ گئے تھے، جبکہ یہ ثابت کرنے کے لیے بھی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ زچگی کے اخراجات خاتون کے والدین نے ادا کیے تھے۔

 

لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم ختم کردیا، جبکہ فیصلے کے دیگر حصے برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی دیگر درخواستیں مسترد کردیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں