قائمہ کمیٹی داخلہ: اسلام آباد بلدیاتی بل پر حکومت کو کامیابی، پیپلزپارٹی کا اختلافی نوٹ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، تاہم پیپلزپارٹی کے ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی نوٹ جمع کرا دیا۔
بل کی منظوری کے وقت کمیٹی کے 12 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا، جن میں سے 8 نے بل کے حق میں جبکہ پیپلزپارٹی کے 4 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بل کی حمایت میں انجم عقیل، نوشین افتخار، ملک بشیر اعوان، شہباز بابر، خواجہ اظہار الحسن، خوشحال خان کاکڑ، حاجی جمال کاکڑ اور رانا انصر نے ووٹ دیا۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ، عبدالقادر پٹیل اور جمال رئیسانی نے بل کی مخالفت کی، جبکہ نبیل گبول نے ایئرپورٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے مخالفت میں ووٹ دیا۔
نوشین افتخار بھی ووٹنگ کے وقت مختصر دورانیے کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئیں۔
پیپلزپارٹی کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ بار بار قانون سازی کا مقصد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنا محسوس ہوتا ہے۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل ترمیمی بلز اور آرڈیننس لانا انتخابی عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے اور جب بھی الیکشن کمیشن انتخابات کی جانب پیش رفت کرتا ہے، نیا ترمیمی بل سامنے آجاتا ہے۔
اختلافی نوٹ میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی حکومتوں کو سیاسی اور مالی اختیارات کی منتقلی لازمی ہے، جبکہ اسلام آباد کے شہری کئی سال سے منتخب بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہیں۔
پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ ترمیمی بل کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ آیا اس کا مقصد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مدد دینا ہے یا ایک نیا قانونی روڑا پیدا کرنا۔
اجلاس میں عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پیپلزپارٹی بلدیاتی بل کو ووٹ نہیں دے گی، جس پر چیئرمین کمیٹی نے ووٹنگ کرانے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں قبضے یا تھانے نہیں بکتے، بارش کے بعد اسلام آباد کلیئر ہوگیا تھا اور حکومت کی کارکردگی پر بات کی جاسکتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے ارکان کو سیاسی گفتگو سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی حقائق پر بات کرنے کے لیے بیٹھی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی کا اختلافی نوٹ کمیٹی کی کارروائی کا حصہ بنایا جائے گا۔
اجلاس میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی ارکان کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ بلوچستان کی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا گیا تھا، تاہم اسپیکر کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال کے باعث بریفنگ کے لیے بلوچستان جانے سے معذرت کی گئی۔
اس موقع پر جمال رئیسانی نے کہا کہ اگر اسپیکر خود بلوچستان جائیں تو حالات ٹھیک اور ارکان جائیں تو حالات خراب قرار دیے جاتے ہیں۔
طلال چودھری نے بتایا کہ حکومت نے وزیراعظم کو بھی اس معاملے پر درخواست کی ہے اور کوشش ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ کمیٹی کو بریفنگ دیں۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ریاست کو اس معاملے پر تیار ہونا چاہیے، جبکہ وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کی بہتری کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ کیا جائے گا اور وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کی امن و امان کی صورتحال، سائبر جرائم، جعلی اور فراڈ کالز، غیر رجسٹرڈ سمز کے غلط استعمال، مالی فراڈ، غیر قانونی رقوم کی منتقلی، سیف سٹی منصوبے اور اسلام آباد میں منشیات کے بڑھتے استعمال سمیت مختلف امور پر بھی بریفنگ دی گئیں۔
ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، اسٹیٹ بینک اور اسلام آباد پولیس کے حکام نے متعلقہ امور سے کمیٹی کو آگاہ کیا، جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے اسلام آباد ماسٹر پلان کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔