آر آئی سی، مریضہ کے لواحقین کا نرس پر تشدد، کپڑے پھاڑ دیے، نرسز کا احتجاج
راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) میں ایک مریضہ کے لواحقین نے ہسپتال کی نرس کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے نہ صرف اس کے کپڑے پھاڑ دیے بلکہ مبینہ طور پر اس کے کپڑے اتارنے کی بھی کوشش کی، جس کے خلاف تمام نرسز نے احتجاجاً کام چھوڑتے ہوئے احتجاج کیا۔
ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی، جبکہ پولیس نے مریضہ کی بیٹیوں اور رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
معلوم ہوا ہے کہ مریضہ کے ساتھ آنے والی خاتون زرمینہ وزیر محمد نے اپنی بہن اور بھائی کے ہمراہ نرس ستارہ سلیم پر حملہ کیا۔ انہوں نے گالم گلوچ اور دھمکیوں کے بعد نرس کو گھسیٹ کر کمرے میں لے جا کر تشدد کیا اور نہ صرف اس کے کپڑے پھاڑے بلکہ مبینہ طور پر اس کے کپڑے اتارنے کی کوشش بھی کی۔
ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی، جس میں ڈاکٹر مصباح درانی، ڈاکٹر عبدالمالک اور ڈاکٹر عبدالسلام شامل ہیں۔
دوسری جانب تھانہ وارث خان پولیس نے بدسلوکی میں ملوث مریضہ کی بیٹیوں اور رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمہ اسٹاف نرس ستارہ سلیم کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مدعیہ کے مطابق وہ ایمرجنسی میں مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں کہ مریضہ زمین بی بی کے ساتھ ان کی تین بیٹیاں موجود تھیں، جنہیں ایمرجنسی سے باہر جانے کا کہا گیا، تاہم وہ غصے میں آگئیں۔
نرس ستارہ سلیم کے مطابق مریضہ کی بیٹیاں انہیں کھینچ کر مردانہ وارڈ کی جانب لے گئیں، جہاں ان کے ساتھ دو مرد بھی آگئے اور سب نے انہیں مارنا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق خواتین نے ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور اتارنے کی بھی کوشش کی۔
مدعیہ نے بتایا کہ منت سماجت کے باوجود انہیں دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ ہم پیسے والے لوگ ہیں، تمہیں نوکری سے فارغ کر دیں گے۔ خواتین اور نامعلوم مردوں نے مار پیٹ کی اور سخت زیادتی کی، لہٰذا قانونی کارروائی کی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد تمام اسٹاف نرسز نے احتجاجاً کام چھوڑ دیا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نرسز کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اسٹاف کے تحفظ کو یقینی بنائے، بصورت دیگر وہ کام نہیں کریں گی۔
احتجاج کے باعث ہسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر وارڈز اسٹاف نرسز سے خالی رہے، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہسپتال انتظامیہ نے نرسز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی، تاہم نرسنگ اسٹاف نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔