میر رضا کیس، کرائم سین، پوسٹ مارٹم ،فارنزک سیمپلز میں سنگین کوتاہیاں، وزیر داخلہ نے معافی مانگ لی
میر رضا کیس کی تحقیقات میں کرائم سین کو محفوظ بنانے سے لے کر پوسٹ مارٹم اور فارنزک سیمپلز جمع کرنے تک متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی سامنے آئی ہے، جبکہ ماہرین نے بعض اہم شواہد بروقت محفوظ نہ کیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب تحقیقات میں میر رضا کے بائنانس اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں، جن کے مطابق ان کے اکاؤنٹ سے کروڑوں یو ایس ڈی ٹی کی ٹریڈنگ ہوئی اور مختلف ادوار میں انہیں بھاری مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق فارنزک ماہرین نے میر رضا کیس میں پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے دوران اہم سیمپلز نہ لیے جانے اور جائے وقوعہ پر کرائم سین ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کو اہم تفتیشی خامی قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب میر رضا کی لاش جائے وقوعہ سے اٹھائی گئی تو کرائم سین کو مناسب انداز میں کارڈن آف نہیں کیا گیا، جبکہ لاش اٹھانے والے شخص نے مبینہ طور پر حفاظتی گلوز بھی نہیں پہنے ہوئے تھے۔
فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ جس مقام سے لاش ملی تھی، اس کے اردگرد تقریباً دگنے رقبے کو محفوظ کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ جتنا وسیع علاقہ کارڈن آف کیا جاتا، ممکنہ شواہد محفوظ کرنے اور مزید ثبوت تلاش کرنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے۔
ماہرین کے مطابق کرائم سین یونٹ کی ذمہ داری صرف جائے وقوعہ سے چند شواہد اکٹھے کرنا نہیں ہوتی بلکہ پورے واقعے کو اس انداز میں محفوظ اور دستاویزی شکل دینا ہوتا ہے کہ بعد میں اسے عدالت میں قابلِ اعتماد ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکے۔
ان کا کہنا ہے کہ کرائم سین یونٹ کو سب سے پہلے جائے وقوعہ محفوظ بنانا چاہیے تھا، لاش کو فوری طور پر حرکت نہیں دینی چاہیے تھی، مکمل فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ کی جانی چاہیے تھی اور گولی کے زخموں، کپڑوں کی حالت، خول، گولیوں، بلٹ ہولز، ممکنہ ٹریجیکٹری اور خون کے شواہد سمیت ہر چیز کو باقاعدہ طور پر محفوظ کیا جانا چاہیے تھا۔
ماہرین کے مطابق ہاتھوں اور جسم پر موجود تمام ممکنہ فارنزک شواہد کو بھی محفوظ کرنا ضروری تھا، جبکہ کسی بھی چیز کو حرکت دینے سے پہلے اس کی اصل حالت، مقام اور دیگر اشیا سے تعلق کو مکمل طور پر ڈاکومنٹ کیا جانا چاہیے تھا۔
سینئر فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میر رضا کے دائیں ہاتھ پر گن شاٹ ریزیڈیو یعنی جی ایس آر کے شواہد واضح طور پر موجود تھے، جبکہ سینے پر نیل کے نشانات اور دائیں ہتھیلی پر رگڑ کے نمایاں آثار بھی موجود تھے جن پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
ماہرین کے مطابق دائیں ہاتھ پر ممکنہ طور پر کسی رسی یا دوسری چیز کے نشانات بھی موجود تھے، تاہم ان کا مکمل فارنزک جائزہ نہیں لیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی مضبوط اور حتمی رائے تک پہنچنے کے لیے ہاتھ کے دونوں اطراف کا معائنہ ضروری تھا تاکہ نشانات کے تسلسل اور کسی ممکنہ باقاعدہ پیٹرن کا جائزہ لیا جاسکتا۔
لیبارٹری رپورٹ کے مطابق میر رضا کے خون میں Bupivacaine کے اجزا بھی پائے گئے، جو مقامی طور پر بے ہوش کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوا ہے۔
فارنزک ماہرین نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ گولی کی سمت اور ٹریجیکٹری معلوم کرنے کے لیے لاش کا ایکسرے تک نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر گولی کھوپڑی، پسلی، ریڑھ کی ہڈی، بازو یا ٹانگ کی ہڈی سے ٹکرائی ہو تو ہڈی کو پہنچنے والا نقصان گولی کی سمت اور پورے واقعے کی reconstruction میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں ایکسرے یا سی ٹی اسکین بھی انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب جسم ڈی کمپوز ہوچکا ہو۔
ماہرین نے پہلے اور دوسرے دونوں پوسٹ مارٹم کے دوران ناخنوں کے سیمپلز نہ لیے جانے کو بھی اہم نکتہ قرار دیا ہے۔
فارنزک ماہرین کے مطابق گولی لگنے سے موت کے ایسے مشتبہ کیس میں، جہاں ہاتھا پائی، مزاحمت، دفاعی کوشش یا مقتول اور کسی دوسرے شخص کے درمیان جسمانی تصادم کا امکان موجود ہو، ناخنوں کے نمونے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
ناخنوں کے نیچے دوسرے شخص کا ڈی این اے، خون، بال، کپڑوں کے ریشے یا دیگر ٹریس مٹیریل موجود ہوسکتا ہے، جو تفتیش میں اہم ثبوت بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسمانی مزاحمت کا امکان موجود تھا تو پہلے پوسٹ مارٹم کے دوران ناخنوں کے سیمپلز لینا زیادہ مؤثر ہوتا کیونکہ اس مرحلے پر ممکنہ ٹریس ایویڈنس نسبتاً بہتر حالت میں محفوظ ہوسکتا تھا۔
قبر کشائی کے بعد بھی ناخنوں سے ڈی این اے یا دیگر سراغی مواد ملنے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، تاہم جسم کے گلنے سڑنے، ماحولیاتی اثرات، ہینڈلنگ اور ممکنہ آلودگی کے باعث ایسے شواہد کی ثبوتی اہمیت متاثر ہوسکتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ ناخنوں کے سیمپلز بنیادی طور پر ڈی این اے اور ٹریس ایویڈنس کے حصول کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور انہیں جی ایس آر کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔
ان کے مطابق پہلے اور دوسرے دونوں پوسٹ مارٹم میں ناخنوں کے نمونے نہ لیے جانے کو ازخود کسی بدنیتی یا مخصوص نتیجے کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم اگر کیس کے حالات میں مزاحمت یا جسمانی تصادم کا معقول امکان موجود تھا تو ایک ممکنہ اہم فارنزک موقع ضائع ہونے کا پہلو ضرور زیرِ غور آتا ہے۔
فارنزک ماہرین نے کرائم سین یونٹس کی مجموعی تربیت اور ساخت بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس کرائم سین یونٹس میں ایسے اہلکار تعینات اور تربیت یافتہ ہونے چاہئیں جن کا سائنسی مضامین سے تعلیمی پس منظر ہو تاکہ وہ جائے وقوعہ کو ایس او پیز کے مطابق محفوظ کرسکیں اور لاش سمیت دیگر شواہد کو مناسب طریقے سے ہینڈل کیا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق اہم کرائم سین پر ڈاکٹر یا فارنزک ایکسپرٹ کی موجودگی بھی ضروری ہونی چاہیے۔
انہوں نے تجویز دی کہ تھانوں کے وہ اہلکار جو کسی واقعے کے فوری بعد سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں، ان کے ساتھ ریسکیو رضاکاروں کو بھی کرائم سین محفوظ بنانے سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جائے۔
میر رضا کے بائنانس اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں
دوسری جانب کیس کی تحقیقات میں میر رضا کے بائنانس اکاؤنٹ سے متعلق اہم مالی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق میر رضا نے 2021 میں بائنانس اکاؤنٹ بنایا تھا اور اس اکاؤنٹ کے ذریعے مجموعی طور پر 8 کروڑ 90 لاکھ یو ایس ڈی ٹی سے زائد کی خرید و فروخت کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کو فیوچر ٹریڈنگ میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 49 لاکھ یو ایس ڈی ٹی سے زائد کا نقصان ہوا۔
اسی طرح 2024 سے 2026 کے دوران انہیں ایک لاکھ 39 ہزار یو ایس ڈی ٹی سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق میر رضا کی موت سے چند روز قبل 22 اور 23 جولائی 2026 کو بھی اکاؤنٹ میں تقریباً 20 لاکھ یو ایس ڈی ٹی کے نقصان کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
تحقیقاتی حکام اب فارنزک شواہد، مالی ریکارڈ، بائنانس اکاؤنٹ کی سرگرمیوں اور دیگر دستیاب مواد کو یکجا کرکے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ فارنزک ماہرین کے مطابق ابتدائی مراحل میں رہ جانے والی خامیوں کے باعث بعض ممکنہ شواہد کی ثبوتی اہمیت متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
میر رضا کیس کی تحقیقات میں معاونت کے لیے شہریوں نے جوڈیشل کمیشن سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار عبد الماجد کے مطابق میر رضا کیس میں معاونت کے سلسلے میں عوام کی جانب سے 5 ای میلز اور متعدد واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
کمیشن سے رابطہ کرنے والے ایک شہری نے میر رضا کے بائننس اکاؤنٹس سے متعلق کمیشن کو معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ ایک اور شہری نے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور آئی کلاؤڈ لاگ ان کرنے سے متعلق اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
رجسٹرار کمیشن نے بتایا کہ کراچی سے ایک شہری نے ایک مشکوک شخص کی بھی نشاندہی کی ہے اور یہ استدعا کی ہے کہ اس شخصیت سے بھی تفتیش کی جائے۔
کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تعاون کرنے والے تمام شہریوں کی شناخت مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔ شہریوں کی جانب سے فراہم کردہ یہ تمام معلومات اور ڈیجیٹل شواہد باضابطہ طور پر انویسٹی گیشن ٹیم کے حوالے کیے جائیں گے۔
دریں اثنا، کراچی ہی میں ایک اور پیشرفت کے دوران صحافی کا موبائل فون چھیننے کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا گیا ہے۔ یہ جواب ملزم ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے ان کے والد نے کمیشن میں جمع کرایا۔
صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے خود پیش ہو کر سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے نواجوان بزنس مین میر رضا علی کے قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔
کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہی صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بلانے کا شکریہ، میں سندھ حکومت کی طرف سے کمیشن سے معذرت کرتا ہوں اور حکومت کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔
انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ہمارے آپ کے پاس آنے کا اصل مقصد ہی اعتماد قائم کرنا تھا۔
ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ جب لوگوں کو پولیس یا دیگر اداروں پر اعتماد نہ رہے تو عدالت ہی وہ واحد فورم بچتی ہے جہاں سے امید کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ مظلوم تک ہر صورت انصاف پہنچایا جائے، اور ہمارا اس کمیشن پر پورا اعتماد ہے کیونکہ جسٹس عمر سیال کا کیریئر بالکل بے داغ رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اور پولیس کا اصل کام یہ ہے کہ ہر صورت حقیقی مجرم تک پہنچا جائے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران کمیشن کی سربراہی کرنے والے جسٹس عمر سیال نے کہا کہ لوگوں کو اس معاملے پر کافی شکوک و شبہات تھے اور مقتول کے والدین کا اعتماد انتہائی نچلی سطح پر آ چکا تھا، ہماری بنیادی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح متاثرہ والدین اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
جسٹس عمر سیال نے مزید برآں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے جو کام کیا وہ پہلے سے موجود آگ پر پیٹرول چھڑکنے کے مترادف تھا، کیونکہ ان کے دفتر نے فیملی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف پانچ منٹ کی زحمت اس لیے دی گئی ہے تاکہ عوامی اور خاندانی سطح پر اعتماد بحال ہو سکے، حالانکہ سندھ حکومت نے اس معاملے پر بہت اچھا کام بھی کیا ہے۔
کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو دیے گئے شوکاز نوٹس کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی۔