رضوان اور امام کے موبائل فونز کی فرانزک، قابلِ ذکر چیز سامنے نہ آ سکی
قومی کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کے دوران ابتدائی تحقیقات میں کوئی ایسی اہم چیز سامنے نہیں آسکی جسے قابلِ ذکر قرار دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے دونوں کھلاڑیوں کو ازخود نوٹس کے تحت طلب کیا تھا، جبکہ ان کے موبائل فونز کو فارنزک تجزیے کے لیے تحویل میں لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فونز میں موجود پیغامات، رابطوں اور دیگر ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود معلومات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔
این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق موبائل فونز کے ابتدائی جائزے میں کوئی نمایاں شواہد سامنے نہیں آئے، تاہم مزید فارنزک تجزیہ اسلام آباد ہیڈکوارٹرز میں جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق فارنزک عمل کے دوران مالی لین دین اور ممکنہ ٹرانزیکشنز کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھجوائی جائے گی، جس کی بنیاد پر بورڈ کھلاڑیوں سے متعلق آئندہ کا فیصلہ کرے گا۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق سے پوچھ گچھ بھی کی گئی، تاہم انہیں کوئی باقاعدہ سوالنامہ فراہم نہیں کیا گیا۔