World

یمن: حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت،سعودی عرب کے بھی فضائی حملے

یمن: حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت،سعودی عرب کے بھی فضائی حملے
۲۲ گھنٹے پہلے

یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر تین ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی شدت آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 

حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق فضائی حملے تعز ضلع کے علاقوں الذکرہ، الحوبان اور خدیر ضلع کے علاقے الراہدہ میں موجود مواصلاتی ٹاورز پر کیے گئے۔

 

رپورٹ کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمیوں کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ان حملوں پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

 

یمن میں جاری تنازع کے دوران حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان مواصلاتی تنصیبات سمیت اہم سرکاری اور عسکری تنصیبات متعدد مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔

 

دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مختلف محاذوں پر لڑائی میں بھی اضافے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مارب، تعز اور الحدیدہ سمیت کئی علاقوں میں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

 

حکومتی فورسز کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بندرگاہی شہر مخا کے قریب حوثیوں کے ٹھکانوں اور عسکری سازوسامان کو نشانہ بنایا، جبکہ یمنی سرکاری فوج نے شمالی مارب میں ڈرون حملے بھی کیے۔

 

دوسری جانب حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی اتحاد نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر 40 فضائی حملے کیے۔

 

حوثیوں کے مطابق ان حملوں کے جواب میں انہوں نے سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور ینبع میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں