روسی تیل خریدنے پر بھارت کو بھاری امریکی ٹیرف کا سامنا ہو سکتا ہے، امریکی کانگریس کا نیا قانون
امریکی کانگریس نے روس اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نیا اختیار دینے والا بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر بھی بھاری محصولات عائد کیے جا سکیں گے۔ اس اقدام سے بھارت اور چین براہِ راست متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026 کو 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کرلیا۔ امریکا میں جاری سیاسی اختلافات کے باوجود اس بل کو دونوں بڑی جماعتوں کی نمایاں حمایت حاصل رہی۔
بل کے حق میں 203 ریپبلکن، 58 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن نے ووٹ دیا، جبکہ مخالفت کرنے والوں میں 152 ڈیموکریٹس اور 7 ریپبلکن ارکان شامل تھے۔
امریکی سینیٹ اس بل کی منظوری پہلے ہی 7 اگست کو دے چکی تھی، جہاں بل کے حق میں 86 جبکہ مخالفت میں 11 ووٹ آئے تھے۔ اب یہ بل دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔
بھارت اور چین پر ممکنہ اثرات
اس قانون کی اہم شق یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو روس سے تیل یا گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔
چونکہ بھارت اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، اس لیے دونوں ممالک میں اس قانون کے ممکنہ اثرات پر نظر رکھی جارہی ہے۔
بھارت میں خاص طور پر ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کے بیانات زیر بحث ہیں۔ بل کی منظوری کے بعد کیپٹل ہل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چین اور بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا کہ وہ روس کے بجائے دیگر ذرائع سے تیل اور گیس خریدیں، کیونکہ کسی ملک کو خوش کرنے کی کوشش کوئی حکمتِ عملی نہیں۔
امریکا بھارت تعلقات پر مختلف آرا
بلومینتھل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دی ہندو کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ورگیز کے جارج نے کہا کہ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ دور کے بعد بھارت اور امریکا کے تعلقات دوبارہ سابق امریکی صدور بش اور اوباما کے دور کی پالیسیوں کی طرف واپس جاسکتے ہیں، تاہم اب اسی نوعیت کا مؤقف ایک ڈیموکریٹ سیاست دان کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینیئر فیلو تنوی مدن نے اس تجزیے سے اختلاف کیا۔
تنوی مدن کے مطابق بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات مکمل طور پر ماضی کی صورتحال کی طرف واپس جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سمیت کئی معاملات پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے قانون ساز ماضی میں بھی بھارت سے اختلاف رکھتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرق صرف یہ تھا کہ سابق امریکی حکومتوں نے ان اختلافات کو ایک وسیع تر حکمتِ عملی کے تحت سنبھالا، جس میں چین کے مقابلے میں بھارت کی اہمیت اور عالمی تیل کی قیمتوں سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھا گیا۔
تنوی مدن کے مطابق اسی حکمتِ عملی کے تحت روسی تیل کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے کی پالیسی بھی متعارف کرائی گئی تھی۔