امریکا نے 28 فروری کو ایران میں بچوں کے سکول پر دانستہ حملہ کیا تھا،اقوام متحدہ
اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی مشن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو ایران میں کیے گئے دو امریکی فضائی حملوں کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اورجنوبی شہر میناب میں بچوں کے ایک سکول کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے پہلے روز ہونے والے 2 امریکی فضائی حملوں کا جائزہ لیا، جن میں بچوں سمیت 178 شہریوں کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے حملے میں جنوبی شہر میناب کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔ تحقیقاتی مشن نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا کہ میناب اسکول حملے کا اصل ہدف یہی تعلیمی ادارہ تھا اور اسے محض غلطی یا اتفاقی کارروائی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
لامِرد حملہ، سپورٹس کمپلیکس اور رہائشی علاقے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دوسرا امریکی فضائی حملہ ایران کے جنوبی شہر لامِرد (Lamerd) میں کیا گیا، جو صوبہ فارس (Fars Province) میں واقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ ایک سپورٹس کمپلیکس اور اس کے قریب موجود رہائشی علاقے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے نتیجے میں شہری متاثر ہوئے۔
تحقیقاتی مشن کے مطابق لامِرد حملے میں تقریباً 22 شہری ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار سے دھاتی ذرات (Tungsten Pellets) پھیلے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے لامِرد حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور اس دعوے کو مسترد کیا کہ امریکی فورسز نے اس مقام کو نشانہ بنایا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایران میں امریکی کارروائیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کئی دہائیوں سے غیر سنجیدہ بیانات کے علاوہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس تنازع میں جنگی جرائم کی ذمہ داری ایرانی حکومت پر عائد ہوتی ہے