Breaking News

پاکستان کی افغان سرحد پر ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف محدود ہدفی کارروائیاں

پاکستان کی  افغان سرحد پر ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف محدود ہدفی کارروائیاں
۲۲ گھنٹے پہلے

پاکستان نے پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان مقامات پر موجود دہشتگرد پاکستان میں دراندازی اور ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

 

حکام کے مطابق 20 اور 21 ستمبر کی درمیانی شب افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے شناخت شدہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی کا مقصد دہشتگردی کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچانا، سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں کو روکنا اور پاکستان میں ممکنہ حملوں کا سدباب کرنا تھا۔

 

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طویل عرصے سے مختلف دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً ٹی ٹی پی، کی موجودگی کے حوالے سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

حکام کے مطابق ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق وہاں مبینہ طور پر دہشتگردوں کی تربیت، حملوں کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور پاکستان میں دراندازی کی تیاری کی جاتی ہے۔

 

پاکستان کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔

 

اسلام آباد اس معاملے کو متعدد مرتبہ عالمی فورمز پر اٹھا چکا ہے اور افغان طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

 

پاکستانی حکام کے مطابق 20 اور 21 ستمبر کی درمیانی شب کی گئی کارروائیوں میں انہی مخصوص ٹھکانوں اور دہشتگردی کے انفرااسٹرکچر کو ہدف بنایا گیا جنہیں پاکستان میں دراندازی اور حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

پاکستان نے ان کارروائیوں کو اپنے دفاع کے حق کے تحت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اپنی سرزمین اور شہریوں کو دہشتگرد حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

 

اسلام آباد نے ایک مرتبہ پھر افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں، دہشتگردوں کو حاصل مبینہ سہولت کاری کا خاتمہ کریں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی دہشتگرد سرگرمی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں