Pakistan

لانگ مارچ ختم نہیں کیا، صرف روکا ہے، ریلیف نہ ملا تو اکتوبر میں اسلام آباد جائیں گے: حافظ نعیم

لانگ مارچ ختم نہیں کیا، صرف روکا ہے، ریلیف نہ ملا تو اکتوبر میں اسلام آباد جائیں گے: حافظ نعیم
۱ منٹ پہلے

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ ختم نہیں کیا بلکہ صرف عارضی طور پر روکا ہے، اگر حکومت نے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہ کیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب دوبارہ مارچ کیا جائے گا۔

 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پرامن مزاحمت کے نتیجے میں عوام میں اس معاملے سے متعلق شعور پیدا ہوا اور اب پٹرولیم لیوی کا مسئلہ ہر سطح پر زیرِ بحث ہے۔

 

امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو اس کے اثرات ملکی معیشت پر پڑیں گے، کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

 

انہوں نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا تعلق پٹرول کی اصل قیمت سے نہیں بلکہ یہ عوام سے ٹیکس وصول کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

 

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو لیوی ختم کرنے کے لیے سنجیدہ تجاویز پیش کیں، تاہم حکومت کی جانب سے ان تجاویز پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی کرکے بھی حکومت کو مطلوبہ آمدن حاصل ہو سکتی ہے، لیکن حکومت اس حوالے سے درست فیصلے نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق یہ مؤقف درست نہیں کہ شرح سود کم کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

 

آئی ایم ایف کے وفد کی پاکستان آمد کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران عالمی مالیاتی ادارے کے دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ پٹرولیم لیوی آئی ایم ایف معاہدے کا لازمی حصہ تھی۔

 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئی ایم ایف نے بڑے جاگیرداروں کو ٹیکس رعایت دینے یا بجلی کے بلوں میں فکس چارجز شامل کرنے کا کہا ہے؟

 

امیر جماعت اسلامی نے حکومتی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود 11 ارب روپے کا نیا جہاز خریدا گیا جبکہ 6.6 ارب روپے کی نئی گاڑیوں کا آرڈر دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنی مراعات اور اخراجات کم کریں اور سرکاری گاڑیوں و دیگر اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔

 

حافظ نعیم الرحمان نے کمرشل بینکوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کے تقریباً 38 ہزار ارب روپے بینکوں میں موجود ہیں، لیکن بینک انہی رقوم کو حکومت کو قرض دے کر منافع حاصل کرتے ہیں جبکہ اس کا بوجھ عوام پر ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں آتا ہے۔

 

انہوں نے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ جب بجٹ میں پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا جا رہا تھا تو اس وقت آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی۔

 

وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ریلیف دینے کے دعوے کیے گئے، تاہم ان کے مطابق عوام سے لی جانے والی لیوی کی رقم دیے گئے ریلیف سے کئی گنا زیادہ ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں