سنگاپور: بسوں کی نشستوں پر پاؤں رکھنے، اونچی آواز میں آڈیو چلانے ،گندگی پھیلانے پر 500 ڈالر جرمانہ
سنگاپور میں بسوں میں غیر مناسب رویوں کی روک تھام کے لیے نئے قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت نشستوں پر پاؤں رکھنے، بلند آواز میں آڈیو چلانے، بس میں کھانے پینے یا گندگی پھیلانے پر 500 سنگاپور ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
سنگاپور کی لینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق زیادہ سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں پر جرمانے کی حد 5 ہزار سنگاپور ڈالر تک مقرر کی گئی ہے۔
ان خلاف ورزیوں میں بس ٹرمینلز یا انٹرچینجز میں دیگر مسافروں کے لیے رکاوٹ یا خطرہ پیدا کرنا، جبکہ بس، بس انٹرچینج یا ٹرمینل کے کسی حصے کو نقصان پہنچانا یا گندا کرنا بھی شامل ہے۔
لینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کا مقصد تمام شہریوں کے لیے محفوظ، باہمی احترام اور بہتر ماحول پر مبنی پبلک ٹرانسپورٹ نظام یقینی بنانا ہے۔
یہ نئے قوانین سنگاپور کے ماس ریپڈ ٹرانزٹ (ایم آر ٹی) نظام میں پہلے سے نافذ قواعد سے ہم آہنگ ہیں۔ اس سے قبل بسوں میں ایسے رویوں پر زیادہ تر بس کمپنیوں کی اندرونی پالیسیوں کے تحت کارروائی کی جاتی تھی اور ڈرائیور مسافروں کو بس سے اترنے کی ہدایت دے سکتے تھے۔
نئے قوانین کے بعد اب ایسے اقدامات باقاعدہ قانونی خلاف ورزی شمار ہوں گے اور مجاز اہلکار موقع پر جرمانے کا نوٹس جاری کر سکیں گے۔
ایل ٹی اے کے مطابق ٹکٹ انسپکٹرز اور بس انٹرچینج عملہ کسی مسافر کے خلاف خلاف ورزی کا شبہ ہونے پر کارروائی کرسکے گا۔
تاہم بس ڈرائیورز، جنہیں سنگاپور میں عموماً "کیپٹن" کہا جاتا ہے، کو جرمانے کے نوٹس جاری کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ان کی بنیادی ذمہ داری بس کو محفوظ انداز میں چلانا ہے۔
البتہ ڈرائیور خلل پیدا کرنے والے مسافروں کو اپنا رویہ درست کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ حکم نہ ماننے کی صورت میں مسافر کو بس سے اتارا جا سکتا ہے جبکہ سنگین صورتحال میں پولیس کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
دنیا کے دیگر شہروں میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پولینڈ کے شہر کراکوف میں رواں سال متعارف کیے گئے قوانین کے تحت موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات کے ذریعے سفر کے دوران امن و سکون متاثر کرنے پر 200 زلوٹی تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔