Pakistan

کراچی:پسند کی شادی کرنیوالی 18 سالہ لڑکی قتل،خاموشی سے دفن،والد،بھائی گرفتار

کراچی:پسند کی شادی کرنیوالی 18 سالہ لڑکی قتل،خاموشی سے دفن،والد،بھائی گرفتار
۱۳ گھنٹے پہلے

کراچی میں پسند کی شادی کرنے والی 18 سالہ لڑکی کے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل اور اسے خاموشی سے دفنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی مکمل تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ کراچی کے علاقے منگھوپیر اور اس سے ملحقہ کٹی پہاڑی/سرحدی بستی کے قریب پیش آیا۔

 

مقتولہ 18 سالہ لڑکی کا تعلق ایک روایتی پشتون خاندان سے بتایا گیا ہے۔

 

شادی اور تنازع کا آغاز

 

معلومات کے مطابق مقتولہ نے تقریباً دو سے تین ماہ قبل اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف اپنی پسند کے نوجوان سے کورٹ میرج کی تھی۔

 

پسند کی شادی کے بعد لڑکی کے خاندان والے مبینہ طور پر شدید ناراض تھے۔ بعد میں رشتہ داروں اور خاندان کے بزرگوں نے صلح اور باقاعدہ رخصتی کا یقین دلا کر لڑکی کو کچھ عرصہ قبل اس کے شوہر کے گھر سے واپس اپنے گھر بلایا تھا۔

 

 

قتل اور تدفین کا واقعہ 

 

 

ذرائع کے مطابق لڑکی کے اپنے گھر واپس آنے کے چند روز بعد اسے رات کے وقت مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گلا دبا کر قتل کر دیا گیا۔

 

قتل کو طبعی موت کا رنگ دینے اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ملزمان نے مبینہ طور پر نہ کوئی اعلان کیا اور نہ ہی باقاعدہ جنازہ پڑھایا۔

 

رپورٹس کے مطابق لاش کو علی الصبح قریبی مقامی قبرستان لے جا کر خاموشی سے دفنا دیا گیا، جبکہ علاقے میں یہ ظاہر کیا گیا کہ لڑکی کی موت بیماری یا دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی ہے۔

 

 

معاملہ سامنے کیسے آیا؟

 

مقتولہ کے شوہر کو کئی دنوں تک اپنی بیوی سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بعد میں جب اسے خفیہ تدفین کا علم ہوا تو اس نے فوری طور پر متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا۔

 

شوہر نے الزام عائد کیا کہ اس کی اہلیہ کی موت طبعی نہیں ہوئی بلکہ اسے پسند کی شادی کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

 

علاقے کے بعض افراد نے بھی پولیس کو اطلاع دی کہ لڑکی کی تدفین مشکوک حالات میں علی الصبح کی گئی اور اس موقع پر نہ کوئی باقاعدہ جنازہ ہوا اور نہ ہی بڑی تعداد میں رشتہ دار موجود تھے۔

 

 

پولیس کارروائی اور گرفتاریاں 

 

 

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا، جس میں قتل، شواہد چھپانے اور مجرمانہ سازش سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں۔

 

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت تین قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کر لیا۔

 

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے پسند کی شادی پر ناراضی کا اعتراف کیا، تاہم قتل کے طریقہ کار اور واقعے کی نوعیت سے متعلق ان کے بیانات میں تضاد سامنے آیا۔

 

پولیس نے موت کی اصل وجہ معلوم کرنے اور شواہد کی سائنسی تصدیق کے لیے علاقہ مجسٹریٹ سے قبر کشائی کی اجازت بھی حاصل کر لی ہے۔

 

قبر کشائی کے بعد لاش کے نمونے فارنزک اور ڈی این اے معائنے کے لیے بھجوائے جائیں گے، جبکہ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔

 

 

مقتولہ کے شوہر کے انکشافات

 

مقتولہ کے شوہر نے پولیس کو دیے گئے بیان اور میڈیا سے گفتگو میں اہم انکشافات کیے ہیں۔

 

شوہر کے مطابق دونوں نے قانونی طریقے سے پسند کی شادی کی تھی اور شادی کے بعد معمول کی خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔

 

انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد لڑکی کے والد اور بھائیوں نے قرآن پاک کا واسطہ دے کر اور رشتہ داروں کو درمیان میں شامل کر کے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو ہونا تھا ہو گیا، اب ہم خاندان کی عزت کے لیے باقاعدہ رخصتی اور صلح چاہتے ہیں تاکہ اختلافات ختم ہو جائیں۔

 

شوہر کے مطابق انہی یقین دہانیوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس نے اپنی اہلیہ کو میکے جانے کی اجازت دے دی۔

 

شوہر نے بتایا کہ میکے جانے کے چند دن بعد ہی اہلیہ کا موبائل فون بند کر دیا گیا اور اس سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

 

اس کے مطابق جب اس نے سسرال جا کر بیوی سے ملاقات یا بات کرانے کی کوشش کی تو اسے مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو بھول جائے کیونکہ وہ اب واپس نہیں آئے گی۔

 

شوہر نے مزید بتایا کہ اسے بعد میں علاقے کے ایک جاننے والے کے ذریعے اطلاع ملی کہ سسرال والوں نے کسی رشتہ دار یا محلے دار کو اطلاع دیے بغیر رات کے آخری پہر یا علی الصبح ایک میت قبرستان لے جا کر دفنا دی ہے۔

 

اس کے مطابق جب اس نے معلومات حاصل کیں تو اسے بتایا گیا کہ اس کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا ہے اور موت کی وجہ اچانک دل کا دورہ یا طبعی موت ظاہر کی جا رہی ہے۔

 

مقتولہ کے شوہر نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اس کی بیوی مکمل طور پر صحت مند تھی اور اسے کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پسند کی شادی کرنے پر اسے غیرت کے نام پر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور واقعے کو چھپانے کے لیے بغیر جنازے کے خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔

 

شوہر نے پولیس سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں