مریم نوازاور دیگرشخصیات کےخلاف سوشل میڈیا پرتوہین آمیز مواد پھیلانے والاملزم گرفتار
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پنجاب میں اہم سیاسی شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز، جھوٹے اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت محمد سمی ولد محمد رفیق کے نام سے ہوئی ہے، جسے جدید ڈیجیٹل ٹریکنگ اور لوکیشن ٹریسنگ کے ذریعے فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے متعلق جعلی اور قابل اعتراض تصاویر تیار کیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ان تصاویر کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کیا اور ان کے حوالے سے گمراہ کن دعوے کیے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر اہم سیاسی شخصیات، خاص طور پر خواتین رہنماؤں کے خلاف توہین آمیز مواد پھیلانے میں ملوث تھا، جس کا مقصد ویوز، شہرت اور انتشار پیدا کرنا تھا۔
گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی ڈیجیٹل جانچ کے دوران موبائل فون اور آن لائن اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر، جعلی پروفائلز اور مختلف سوشل میڈیا لنکس برآمد ہوئے، جنہیں مزید فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ملزم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر جعلی مواد تیار کرنے، ہتک عزت، غیر قانونی ڈیٹا کے استعمال اور نفرت انگیز مواد پھیلانے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
این سی سی آئی اے ملزم کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ مزید تحقیقات، سوشل میڈیا نیٹ ورک اور ممکنہ دیگر افراد کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔
این سی سی آئی اے حکام نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص، خاص طور پر خواتین اور عوامی عہدیداروں کی تصاویر میں غیر قانونی تبدیلی کرنا سنگین سائبر جرم ہے، اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔