ایبٹ آبادسےصرف 20 کلومیٹر دور بیرن گلی کا پرائمری سکول بیس سال سے عمارت سےمحروم
ایبٹ آباد شہر سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر یونین کونسل بیرن گلی، محلہ بنج، میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول بنج گزشتہ 20 سال سے عمارت سے محروم ہے۔
سکول میں تقریباً 190 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، تاہم انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمارت ہی میسر نہیں۔ شدید موسمی حالات میں 200 کے قریب بچے انتہائی نامساعد حالات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ طلبہ کو کھیل، تفریح اور محفوظ ماحول جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ سکول 2005 کے تباہ کن زلزلے میں منہدم ہوگیا تھا، جس کے بعد کئی سال تک بچے مناسب عمارت اور سہولیات سے محروم رہے اور کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور رہے۔
مقامی افراد کے مطابق سکول کی تعمیر کا کام تقریباً 2010 کے آس پاس شروع کیا گیا، تاہم تعمیراتی کام صرف پلرز کے لیے سریے ڈالنے تک محدود رہا۔ 16 سال گزرنے کے باوجود سکول کی تعمیر اس مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی، جبکہ نامکمل تعمیراتی ڈھانچہ آج بھی بچوں کے لیے خطرے کا باعث بنا ہوا ہے۔
سکول کے احاطے میں بڑی تعداد میں باہر نکلی ہوئی سریے کی سلاخیں اور غیر ہموار تعمیراتی حصے موجود ہیں، جن سے کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کھیلتے یا چلتے ہوئے کسی بچے کو ان خطرناک سلاخوں سے چوٹ لگتی ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کے احاطے میں موجود خطرناک لوہے کی سلاخوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے یا انہیں محفوظ بنایا جائے تاکہ بچوں کو کسی ممکنہ حادثے سے بچایا جاسکے۔
آٹھ سال تک بچے کھلے آسمان تلے پڑھتے رہے
مقامی افراد کے مطابق زلزلے کے بعد ایک طویل عرصے تک سکول کے بچے نامناسب حالات میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ تقریباً آٹھ سال تک طلبہ و طالبات کو کھلے آسمان تلے یا انتہائی مشکل ماحول میں پڑھنا پڑا، جس سے علاقے کے بچوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارہ صرف چار دیواری اور کلاس رومز کا نام نہیں، بلکہ بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول بھی ضروری ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
190 بچوں کے لیے کھیل کا میدان کہاں ہے؟
گورنمنٹ پرائمری سکول بنج میں تقریباً 190 بچے اور بچیاں زیرِ تعلیم ہیں، جو مقامی سطح پر ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے۔ تاہم اتنی بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کے لیے مناسب کھیل کا میدان، تفریحی جگہ اور جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے ضروری سہولیات موجود نہیں ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پرائمری سطح کے بچے صرف کتابوں اور کلاس رومز تک محدود نہیں رہ سکتے۔ کھیل کا میدان، صاف ستھرا ماحول اور محفوظ جگہ بھی بچوں کی تربیت اور صحت مند نشوونما کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بڑے شہروں اور صاحبِ حیثیت لوگوں کے بچوں کے لیے کھیل اور تفریح کی سہولیات موجود ہوسکتی ہیں تو دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو ان بنیادی سہولیات سے محروم کیوں رکھا جائے؟
حکام بالا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
علاقہ مکینوں نے محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ گورنمنٹ پرائمری سکول بنج کے مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے اور سکول کو بچوں کے لیے محفوظ بنایا جائے۔
مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ خطرناک سلاخوں اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کیا جائے، سکول کے لیے مناسب کھیل کا میدان تیار کیا جائے اور طلبہ و طالبات کو ایسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو ان کی تعلیمی، جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بچے ملک و قوم کا مستقبل ہیں۔ اگر آج انہیں بہتر تعلیمی ماحول، کھیل کی سہولت اور محفوظ جگہ فراہم کی جائے گی تو یہی بچے مستقبل میں علاقے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
سیاسی نمائندوں اور مخیر حضرات سے کردار ادا کرنے کی اپیل
علاقہ مکینوں نے مقامی سیاسی نمائندوں، منتخب عوامی نمائندگان، سماجی شخصیات اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گورنمنٹ پرائمری سکول بنج کے مسئلے کو صرف ایک تعلیمی ادارے کا مسئلہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے رفاہِ عامہ کا اہم کام سمجھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔
مقامی افراد کے مطابق اگر حکومتی وسائل محدود ہیں تو صاحبِ حیثیت افراد، سیاسی نمائندے اور مخیر حضرات باہمی تعاون سے سکول کے لیے گراؤنڈ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام موقع کا معائنہ کریں، زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور گورنمنٹ پرائمری سکول بنج کے لیے محفوظ، صاف ستھرا اور بچوں کے لیے موزوں ماحول یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بچے کسی سے کمتر نہیں، یہ بھی اسی قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ انہیں کھلے آسمان، خطرناک سلاخوں اور نامناسب گراؤنڈ کے بجائے ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ تعلیم بھی حاصل کریں، کھیلیں، جسمانی طور پر پروان چڑھیں اور مستقبل میں ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام گورنمنٹ پرائمری سکول بنج کے تقریباً 190 بچوں کی اس بنیادی ضرورت کا نوٹس کب لیتے ہیں اور سکول کے لیے محفوظ گراؤنڈ اور بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کب شروع کیے جاتے ہیں۔