Breaking News

میر رضا کے قاتلوں پر آج تک پردہ ڈالا جا رہا ہے،جبران ناصر

میر رضا کے قاتلوں پر آج تک پردہ ڈالا جا رہا ہے،جبران ناصر
۴ گھنٹے پہلے

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اب تک جوڈیشل کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی میں اہلخانہ کی جانب سے پولیس پر کوئی الزام تراشی نہیں کی گئی،قاتلوں پر آج تک پردہ ڈالا جا رہا ہے تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اصل قاتلوں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

 

سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن میں کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل کے افسر کاشف کے بیانات ریکارڈ ہونا تھے، جبکہ بعض اعلیٰ پولیس افسران کو سوالنامے بھی بھیجے جانے تھے۔

 

انہوں نے بتایا کہ 2 ستمبر کو کمیشن نے چیف جسٹس کو اپنی مدت میں توسیع کی درخواست سے آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے کئی نئے افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے جو ابتدائی تفتیش میں سامنے نہیں آئے تھے۔

 

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مدت میں توسیع کی سمری منظور کرلی ہے، تاہم حتمی فیصلہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا جو یکم اکتوبر کو متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل کی منظوری ایک روز میں دی گئی تھی، اسی طرح توسیع کی منظوری کا عمل بھی مکمل کیا جاسکتا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ پولیس افسران سے متعلق سوالات کے جوابات طلب کیے جائیں گے اور اگر کسی جواب میں ابہام یا کمی ہوئی تو اس پر بھی مزید سوالات اٹھائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی وزیر داخلہ مختصر نوٹس پر کمیشن کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں تو اعلیٰ افسران بھی پیش ہوسکتے ہیں۔

 

جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن نے بھی شفاف تحقیقات پر زور دیا ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ متعلقہ افسران خود کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو پہلے ہی کمیشن میں پیش ہوچکے ہیں، جبکہ سوالنامہ مقررہ وقت تک جمع کرایا جائے گا اور سوالات میڈیا کے سامنے بھی رکھے جائیں گے۔

 

اہلخانہ کے وکیل نے کہا کہ ان کے مطابق قاتل ابھی تک آزاد ہیں اور اس معاملے میں سپر میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر ڈاکٹر سمیہ سمیت تمام متعلقہ ڈاکٹروں کے بیانات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو ڈاکٹر اسامہ کا بیان بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور سوال یہ ہے کہ آج وہی بیان درست کیوں محسوس کیا جا رہا ہے۔

 

جبران ناصر نے لاش ملنے کی جگہ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس مقام کے اطراف 9 گلیاں موجود ہیں، جبکہ تفتیشی افسر سمیع اللہ سومرو کے بیان کے مطابق وہاں صرف ایک گلی کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کتنی سی سی ٹی وی فوٹیجز محفوظ کی گئیں اور کتنی ریکارڈنگز کا جائزہ لیا گیا، کیونکہ ان کے بقول تحقیقات ایک محدود دائرے میں گھوم رہی ہیں۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس چیف نے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران وکیل کے انتخاب سے متعلق مشورے دیے۔ جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ پولیس چیف کی حیثیت سے انہیں اس معاملے میں اس نوعیت کی دلچسپی کیوں تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے بھی بعض معاملات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کو بلانے سے متعلق اطلاعات سامنے آتی ہیں، لیکن علی شاذ کے حوالے سے پیش رفت واضح نہیں کی گئی۔

 

جبران ناصر نے کہا کہ علی شاذ سے یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ ایک وائس نوٹ اے ایس پی ندا کو موبائل فون کے ذریعے بھیجا جاسکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی شاذ کے بھائی اے ایس پی شاہ زیب 4 اگست کو کراچی میں موجود تھے، اس لیے گلستان جوہر میں علی شاذ کے گھر کا معائنہ، وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ بھی ضروری ہے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر پولیس افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 24 ستمبر کو کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر سپر میڈیکل بورڈ ہی بنانا ہے تو پھر کمیشن کے قیام کا مقصد متاثر ہوگا، جبکہ ٹی او آرز کے مطابق موت کی وجوہات کا تعین بھی کمیشن کو کرنے دیا جانا چاہیے۔

 

جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ سپر میڈیکل بورڈ کس مقصد کے لیے بنایا جا رہا ہے اور آیا دوبارہ قبر کشائی کی جائے گی یا میڈیکل بورڈ کے ذریعے معاملے کی جانچ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر سمیہ پولیس سے تعاون نہیں کر رہیں تو کیا میڈیکل بورڈ کے دیگر ڈاکٹرز بھی تعاون نہیں کر رہے۔

 

انہوں نے ڈاکٹر اسامہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے بہترین افسران میں شمار ہوتے ہیں اور ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر افسران بھی ان کی کارکردگی کا اظہار کرچکے ہیں۔ جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ پھر آزاد خان کی جانب سے کیس حل ہونے کا دعویٰ کیوں کیا گیا تھا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں