Breaking News

وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، سہیل آفریدی

وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، سہیل آفریدی
۴ گھنٹے پہلے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کمی کرکے یہ رقم پولیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص کی۔

 

پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جبکہ پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا۔

 

وزیراعلیٰ کے مطابق پولیس کی نفری بڑھانے، ادارے کی صلاحیت بہتر بنانے، اسپیشل برانچ کو مزید فعال کرنے اور جدید اسلحہ و ضروری آلات کی فراہمی کے لیے کام جاری ہے۔

 

تاہم سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے امن و امان کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔

 

انہوں نے کہا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ گزشتہ 22 سال سے جاری پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام متعلقہ فریقوں، جن میں حکومت، انتظامیہ اور پولیس شامل ہیں، کو اعتماد میں لے کر نئی حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے۔

 

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے تو 100 دن کے اندر صوبے میں امن قائم کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کے مطابق صوبے کے اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز سننے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی جا رہی۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خواہشات اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی دھمکیوں کے باوجود وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں