خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے مطابق لگائی، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے یہ اقدامات آئین کے مطابق کیے ہیں اور انہیں غیر آئینی قرار دینے کے الزامات درست نہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ جو لوگ گورنر راج اور ایمرجنسی کو غیر آئینی اقدام قرار دے رہے ہیں، انہیں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر آئینی طریقہ کار کے تحت کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی منظوری دی ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور ملک اب بھی اس کے نتائج بھگت رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے کابینہ میں کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوگا، کیونکہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔
انہوں نے جمہوریت سے متعلق تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ساری زندگی آئین پر عمل کرتے رہے ہیں، اس لیے انہیں جمہوریت کا درس نہ دیا جائے۔
اسحاق ڈار نے ماضی کی حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان کی سرحد کھول کر دہشتگردوں کو واپس آنے کی دعوت کس نے دی تھی؟
انہوں نے پوچھا کہ کس حکومت نے جیلوں میں قید دہشتگردوں کو رہا کرنے کی اجازت دی اور انہیں دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع فراہم کیا؟
نائب وزیراعظم نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے بعض افراد ان فیصلوں کے ذمہ دار ہیں جن کے باعث ملک میں دہشتگردی دوبارہ بڑھی۔
انہوں نے کابل میں چائے پینے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے افراد کو چھوڑ دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد کھولنے کا فیصلہ غلط تھا اور کالعدم ٹی ٹی پی کے فرار ہونے والے جنگجوؤں کی واپسی کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر بدامنی اور دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ایسے فیصلے کیے، انہیں ان کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، کیونکہ ان غلطیوں کی قیمت پوری قوم نے ادا کی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ دہشتگردوں کو کس بنیاد پر رہا کیا گیا اور ملک کو بار بار ایسے فیصلوں کے نقصانات کیوں برداشت کرنا پڑ رہے ہیں؟
نائب وزیراعظم نے ماضی میں دہشتگردی کے خلاف کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔
اسحاق ڈار کے مطابق اس کانفرنس کے بعد دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بعد میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو اپنے زیر اثر علاقے چھوڑنا پڑے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردوں کا تعاقب کیا گیا اور ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔
ان کے مطابق ماضی کے بعض غلط فیصلوں نے دہشتگردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو متاثر کیا اور ملک میں دوبارہ بدامنی پیدا ہوئی۔
اسحاق ڈار نے صوبائی وسائل کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 800 ارب روپے متعلقہ کاموں پر خرچ کیے گئے ہوتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری وسائل استعمال کرکے سندھ اور پنجاب کے دورے کیے گئے۔
نائب وزیراعظم نے سیاسی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کی تفصیلات بھی بیان کیں۔
ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا تھا کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم نے مولانا کو جواب دیا کہ معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے اور کابینہ کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے صبح سویرے وزیراعظم سے دوبارہ رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم کے مطابق شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر غور کرنے کا کہا۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی بانی تحریک انصاف عمران خان سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقات کرائی جا رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کا مسئلہ اب صرف سیاسی مفاہمت سے حل ہونے کے مرحلے سے آگے نکل چکا ہے اور مؤثر اقدامات میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اس وقت بھی دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی تو پھر اس مسئلے سے نمٹنے کا مناسب وقت کب آئے گا؟
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ ملک کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اور فیصلہ کن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔