ایران ایسی تکنیکی ترقی چاہتا ہے کوئی دشمن حملہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے،مسعود پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ میزائل سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں ایران کی حالیہ کامیابیاں ایرانی عوام کی غیر معمولی صلاحیتوں اور سائنسی استعداد کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو تکنیکی ترقی کے اس مقام تک پہنچنا چاہیے جہاں کوئی بھی دشمن اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ ایرانی صدر نے تعلیم کو باصلاحیت افراد کی تیاری کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنے سابقہ مؤقف کو بھی دہرایا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم جبر کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے مقامی تعلیمی اداروں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ میزائل سازی سمیت مختلف جدید شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ایرانی عوام کی قابلیت اور سائنسی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔
صدر پزشکیان کے مطابق ایران ایسی تکنیکی ترقی چاہتا ہے جس کے نتیجے میں کوئی دشمن اس کے خلاف حملہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ملک میں مزید ترقی کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران موجودہ صورتحال کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقصد ملک کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں دشمن ایران کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سائنسی اور تکنیکی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو باصلاحیت افراد کی ضرورت ہے اور ایسے افراد کی تیاری میں تعلیمی ادارے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ایرانی صدر کے مطابق تعلیم کے ذریعے قابل افراد کی تربیت ملک کی تکنیکی ترقی اور مستقبل کی کامیابیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
مسعود پزشکیان نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔
تاہم ایرانی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات پر آمادگی کا مطلب دباؤ یا جبر کے سامنے جھکنا نہیں۔
ان کے مطابق ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کسی قسم کی زبردستی قبول نہیں کرے گا۔